خطبات محمود (جلد 6) — Page 347
65 اگرام فیف (فرموده ۱۵ دسمبر ۱۹۹مه) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیات هَل أَنكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ المُحرِمِينَ ، إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَمَّا قَالَ سَلَمُ قَوْمُ مُنْكَرُونَ ، فَرَاغَ إِلَى اهْلِهِ فَجَاءَ بِعجل سَمِينٍ ، فَقَرَبَةٌ إِلَيْهِمُ قَالَ الَا تَا حُلُونَ فَا وَجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشِّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ هِ فَأَقْبَلَتِ امَرَاتُهُ فِي صَرَةٍ فَصَلَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُورٌ عَقِيمٌ قَالُوا حَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ إِنَّهُ مَوَ الحكيم العليمُ۔قَالَ فَمَا خَطْبُكُمُ ايُّهَا الْمُرْسَلُونَ ، قَالُوا إِنَّا أَرسِلُنَا إلى قَوْمٍ مُجْرِمِينَ (سورة الذُریت : ۵ ۲ تا ۳۳) تلاوت کیں اور فرمایا کہ : زمین پر جب سے کہ انسان کو خدا نے پیدا کیا ہے۔اسی وقت سے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسانی میں اکرام ضیف کو رکھا گیا ہے اور بغیر کسی کسب کے اور بغیر اس کے گرکسی فلسفہ کے نتیجہ میں ہ خواہش پیدا ہو۔قدیم زمانہ سے اور فلسفہ کی ایجاد سے پہلے علوم کی دریافت سے پہلے انسانوں میں اکرام نصیف اور مہمان نوازی اور کا دستور ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فطری تقاضہ ہے جس طرح ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔ماں باپ کا اپنے بچے سے محبت کرنا۔اور میں طرح میاں بیوی کے تعلقات فطرت میں پیدا ہوتے ہیں اور کسی فلسفہ کا نتیجہ نہیں ہوتے۔اور ہمیشہ ہے انسان ایسا کرتا چلا آیا ہے اور کر رہا ہے اور کرتا چلا جائیگا، کوئی فلسفہ کوئی علم اس پر اثر نہیں کر سکتا، بلکہ اگر دیکھا جائے تو تمدن کا اس پر الٹا اثر پڑا ہے۔نئی تہذیب نے محبت کو کم کیا ہے۔زیادہ نہیں کیا۔پس اگر فلسفہ کا اس پر کوئی اثر پڑا ہے تو وہ یہ ہے کہ یہ باتیں پہلے سے کم نہیں اس لیے ہم نہیں کہ سکتے کہ یہ باتیں تمدن کا نتیجہ ہیں۔یاکسی فلسفہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔اگر یہ بات علوم سے پیدا ہوتی تو قوانین کے مرتب ہونے سے بعد میں پیدا ہوتی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قوانین تمدن نے ان کو کم کیا ہے۔وہ قومیں جن پر یورپ کا اثر ہے ان میں ماں باپ کی محبت کم ہو گئی ہے۔پس تاریخ سے معلوم ہوتا ہے