خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 346

لم الرما ته دل پر ذاتی معاملات اور دیگر امور میں رحم سے کام لو کام لو۔ کیونکہ خدا رحم کرنیوالوں سے محبت کرتا ہے ا ہے بعض حالات میں تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص رحم نہیں کرتا ۔ وہ مسلمان نہیں ۔ یہاں الٹ بات ہے کہ لوگ ایسی باتوں، چشم پوشی سے کام لیتے ہیں جن سے جماعت کا شیرازہ بکھرتا ہو، لیکن وہ باتیں جن کا اثر ان تک محدود ہو اس پر غصہ کرتے ہیں۔ یہ ایمان کے نقص کی بات ہے ۔ رحم وہ ہے جو جڑ ہے اسلام کی اور اس کا تعلق تمام اقوام سے ہے۔ کہ اگر اس میں نقص ہے تو ایمان میں نقص ہے ۔ میں اپنی جماعت کو خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں کہ محبت و اخلاص کو آپس میں بڑھا کر کہ شخص دوسرے کے معاملات کو اپنے معام املات کو اپنے معاملات ہی محسوس کرے ۔ آج کل کے بھائیوں کی حالت کو در کو دیکھتے ہوئے میں یہ تو نہیں کہ سکتا کہ آپس میں ایسی محبت کرو جیسی کہ بھائی کو بھائی سے ہوتی ہے۔ کیونکہ آجکل بھائیوں میں محبت نہیں، ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو بھائی بھائیوں میں آپس میں محبت ہوتی تھی۔ وہ پیدا کرو۔ پرانا محاورہ ہے کہ خون سفید ہو گئے مگر اس کی حقیقت آجکل کھلی۔ جبکہ بھائی بھائی آپس میں بالکل بے تعلق ہو گئے ۔ اور کوئی رشتہ ایسا نہ رہا جس میں محبت کو زیادہ تعلق ہو۔ پس تم ایسے رشتہ دار بنو۔ جیسے رسول کریم کے زمانہ میں صحابہ تھے۔ اس زمانہ میں تم نے مسیح موعود کو دیکھا ہے۔ تم لوگ آپ سے وابستہ ہو۔ پس جو رنگ محبت آپ میں دیکھا ہے وہ پیدا کرو۔ اس سے زیادہ اور واضح مثال کیا ہو سکتی ہے۔ نہیں یہ اساس ایمان ہے۔ جب تک اخوت نہیں ۔ ایمان بھی نہیں ۔ فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ اخوانا (ال عمران : (۱۰۴) کے یہی معنی ہیں ۔ اخوت مومن کی علامات میں سے ہے ۔ ایمان اور اخوت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ میں نصیحت کرتا ہوں۔ اس کو یاد رکھو کہ آپس میں اخوت کے تعلقات کو بڑھاؤ اور جب تک اس پر عمل نہ کرو گے۔ آگے قدم نہیں اُٹھا سکو گے ؟ ( الفضل مرد سمبر له )