خطبات محمود (جلد 6) — Page 344
مهم ہوا کہ ہر انسان کے دو نقشے ہوتے ہیں۔ ایک اس کا ظاہری نقشہ - ایک باطنی ظاہری نقشہ میں تو تمام انسان مشابہت رکھتے ہیں، لیکن باطنی میں ایک کی شکل دوسرے سے نہیں ملتی۔ اور جس طرح افراد کی حالتوں میں فرق ہے۔ اسی طرح اقوام کی حالت ہوتی ہے۔ پس انسان وہ ہے کہ جس میں دو محبتیں ہوں ۔ ایک بندوں سے ہو۔ اور ایک خدا سے اور خدائی محبت وہ ہے جو نظر نہیں آسکتی۔ کیونکہ یہ ایک قلبی معاملہ ہے۔ اور بندوں سے جو محبت ہو وہ ظاہر ہوسکتی ہے۔ خدا سے محبت کا ثبوت بھی تب مل سکتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں خدا کی طرف سے بھی محبت کا معاملہ ہو۔ کیونکہ مشہور ہے۔ دل را بدل رہیست ، لیکن خدا کے لیے تو یہ بات نہیں گھی جاسکتی ۔ کیونکہ ہاں تو علم کامل ہے بیس جب ایک بندہ خدا سے سچی محبت رکھتا ہو۔ تو ہو نہیں سکتا، کہ خدا تعالیٰ اس سے محبت کا معاملہ نہ کرے تو ایک انسان کا خدا سے دعویٰ محبت اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی محبت کا معاملہ ہو۔ یہ ایک بڑا رتبہ ہے ۔ مگر انسانوں کی محبت تو تھوڑی سی بات ہے۔ میں دیکھتا ہوں ، ہماری جماعت میں آپس میں وہ پیار اور محبت کم ہے جو اسلام کہتا ہے کہ تمام لوگوں سے ہو۔ اسلام وہ پیار جو چاہتا ہے کہ ایک عیسائی سے ہو۔ ایک یہودی سے ہو۔ ایک آریہ سے سے ہو۔ ایک زرتشتی سے ہو۔ ایک سکھ سے : ملھ سے ہو۔ وہ پیار جو بھا۔ پیار جو بھائیوں بھائیوں میں ہونا چاہیے ۔ وہ تو یہ ہے کہ كَانَهُمْ بُنْيَانَ مَرْصُوص (الصف : ٥) کہ جس طرح چونے کے کیچ دیوار میں یہ نہیں معلوم کیا جا سکتا کہ فلاں امنٹ کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں ختم ہوئی ۔ اسی طرح بھائیوں بھائیوں کو آپس میں جڑے ہوتے ہونا چاہتے کہ غیریت نظر آئے نے نظر نہ آئے ۔ بس یہ تو ایک بھاری چیز ہے ۔ ہماری جماعت میں تو اس محبت میں بھی کمی ہے۔ جتنی کہ اسلام کے کہ اسلام کے رو سے غیر مذاہب کے لوگوں سے ہونی چا اسلام کے لوگوں سے ہونی چاہیئے یعنی جتنا کہ ایک احمدی کو ایک ہندو یا عیسائی سے پیار ہونا چاہیئے۔ اتنا پیار احمدیوں کا آپس میں نہیں ۔ اور وہ پیار جواپسی میں ہونا چاہیئے، وہ تو بڑی بات ہے۔ اور یہ پیار اور محبت انسانیت اور اسلام کا پہلا زینہ ہے ۔ افسوس کہ اس میں بھی بڑی کمی ہے۔ اور جب ابھی پہلا زینہ ہی طے نہ کیا ہو۔ تو دوسرے زینے کیسے طے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے میں اپنی جماعت کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں کہ اخلاق فاضلہ ایک بڑی چیز ہیں ۔ اور دنیا کی جمعیت کا ان پر انحصار ہے۔ اپنے حقوق پر ہی زور دینا کامیابی کا موجب نہیں، بلکہ قربانی کرنا کامیابی کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ اگر حقوق پر ہی زور دیا جائے تو دنیا سے امن رخصت ہو جاتے ۔ دیکھو اگر ایک بھائی مر جاتے اور اپنے تیم بچے چھوڑ جاتے تو دوسرے بھائی کہ سکتے ہیں کہ ان بچوں کا ہم پر کوئی حق نہں کیونکہ انکا باپ اپنے حقوق زندگی میں تم سے پیار ہا ہے پھر گر مل میں کوئی شخص فوت ہو تو اہل محلہ اسے قیم بیچوں اور بیوہ بیوی کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ قیمتوں اور