خطبات محمود (جلد 6) — Page 343
64 آپس میں محبت کرو دفرموده ۱۲۸ نومبر ۱۹۱۹ حضور نے تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔" میں بوجہ ملتی کی تکلیف کے زیادہ نہیں بول سکتا مگر چند الفاظ میں آپ کو اور باہر کی جماعتوں کو ایک اہم فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میرے نزدیک اس فرض کی ادائیگی میں ہماری جماعت میں بہت سستی ہے حالانکہ وہ فرض نہایت ہی ضروری ہے۔اور اس کے بغیر انسان انسان نہیں ہو سکتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان اصل میں انسان سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں دو انس یا دو محبتیں۔ایک خدا کی محبت اور ایک خدا کے بندوں کی محبت۔پس انسان - انسانیت کے لیے سب سے پہلا جو قدم اٹھا سکتا ہے۔وہ یہی ہے کہ ایک طرف اس کو خدا کی محبت ہو دوسری طرف خدا کے بندوں کی۔اگر انسان محبت سے خالی ہو تو اس کو انسان نہیں کہ سکتے۔بلکہ اس کو تو جانور بھی نہیں کہا جا سکتا۔وہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہو گا۔کیونکہ بہت سے لوگ انسان کہلاتے ہوئے بندر ہوتے ہیں۔انسان کہلاتے ہوئے ستور اور پتے دیکھے ہوتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ سورہ ہو یا شیر ہو یا چیتا یا بھیڑیا یا انسان کھلا کر لوجہ اپنی مکاریوں کے لومڑ ہو۔اسی طرح ایک انسان انسان نظر آتا ہوا اپنی اخلاقی حالت کے لحاظ سے ان جانوروں سے بھی گیا گزیر ہو کہ دیکھنے میں تو انسان ہو۔اور عادات کے لحاظ سے ریچھ سے بھی بدتر ہو یا سٹور سے بھی بدتر ہو ہو سکتا ہے کہ درندگی میں بھیڑیئے سے بھی بدتر ہو۔مشہور ہے کہ شیر گرے ہوئے پر حملہ نہیں کرتا۔مگر آدمی کہلانے والوں میں اس قسم کے ہوتے ہیں کہ گرے ہوئے پر بھی حملہ کرتے ہیں۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن بعض مجرم اونٹ کی شکل میں آئیں گے پشیمانی طور پر تو تعجب ہو سکتا ہے، لیکن روحانی طور پر یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ممکن ہے کہ ایک شخص کی روایت جس قسم کی یہاں ہو۔اس کو متمثل کر کے اگلے جہاں میں اونٹ کی شکل میں دکھایا جائے۔اس سے ثابت مکاشفتہ القلوب مصنفہ امام محمد بن الغزالی ترجمه اگر دو م۳۶۵