خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 343

64 آپس میں محبت کرو فرموده ۲۸ نومبر ته ) حضور نے تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں بوجہ علی کی تکلیف کے زیادہ نہیں بول سکتا مگر چند الفاظ میں آپ کو اور باہر کی جماعتوں کو ایک اہم آس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ میرے نزدیک اس فرض کی ادائیگی میں ہماری جماعت میں بہت سستی ہے حالانکہ وہ فرض نہایت ہی ضروری ہے ۔ اور اس کے بغیر انسان انسان نہیں ہو سکتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان اصل میں انسان سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں دو انس یا دو محبتیں ۔ ایک خدا کی محبت اور ایک خدا کے بندوں کی محبت ۔ پس انسان - انسانیت کے لیے سب سے پہلا جو قدم اُٹھا سکتا ہے۔ وہ یہی ہے کہ ایک طرف اس کو خدا کی محبت ہو دوسری طرف خدا کے بندوں کی ۔ اگر انسان محبت سے خالی ہو تو اس کو انسان نہیں کہہ سکتے ۔ بلکہ اس کو تو جانور بھی نہیں کہا جا سکتا، وہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہوگا کیونکہ بہت سے لوگ انسان کہلاتے ہوئے بندر ہوتے ہیں۔ انسان کہلاتے ہوئے ستور اور ہلتے دیکھے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سورہ ہو یا شیر ہو یا چیتا یا بھیڑیا یا انسان کہلا کر لوجہ اپنی مکاریوں کے لومڑ ہو۔ اسی طرح ایک انسان انسان نظر آتا ہوا اپنی اخلاقی حالت کے لحاظ سے ان جانوروں سے بھی گیا گزرا ہو کہ دیکھنے میں تو انسان ہو۔ اور عادات کے لحاظ سے ریچھ سے بھی بدتر ہو یا سوکر سے بھی بدتر ہو ہو سکتا ہے کہ درندگی میں بھیڑیے سے بھی بدتر ہو۔ مشہور ہے کہ شیر گیرے ہوتے پر حملہ نہیں کرتا۔ مگر آدمی کہلانے والوں میں اس قسم کے ہوتے ہیں کہ گرے ہوتے پر بھی حملہ کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن بعض مجرم اونٹ کی شکل میں آئیں گے جسمانی طور پر تو تعجب ہو سکتا ہے، لیکن روحانی طور پر یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ ممکن ہے کہ ایک شخص کی رومات جس قسم کی یہاں ہو ۔ اس کو متمثل کر کے اگلے جہاں میں اونٹ کی شکل میں دکھایا جائے۔ اس سے ثابت له مکاشفتہ القلوب مصنفه امام محمد بن الغزالی ترجمہ اردو من