خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 34

عام قاعدہ یہی ہے کہ ایمان کا حصول قواعد کے ماتحت ہوتا ہے پس ضروری ہے کہ پہلے دل میں عقائد پر یقین ہو اور اس کا اظہار ہو اور اس پر عمل ہو۔ایک ایمان تو صرف مان لینے کا نام ہے مگر میری ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو ثمرات والا ایمان ہے۔زبانی ایمان نہیں۔اس درخت ایمان سے مراد ہے جس کیساتھ ضروری ہے کہ عقائد صحیحہ ہوں اظہار ہو اور اعمال ہوں۔اب معلوم ہونا چاہیئے کہ تفاصیل میں بعض اصول ہیں۔فروعات کے نقائص اعلیٰ مدارج میں روک ہوتے ہیں، لیکن اصول میں کمی آنا ایمان کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ اصول سے تو ایمان پیدا ہوتا ہے۔فروعات میں سے اگر کسی شخص میں کچھ نقص ہے تو پھر مقابلہ اس طرح ہوگا کہ جتنی کسی فرع میں کمی ہوگی وہ اتنا ہی نیچے درجہ میں ہو گا اور جس نے جس قدر فروعات کو پورا کیا ہوگا وہ درجات عرفان میں بلند ہوگا۔یہ مقابلہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ آم کے دو اعلیٰ درجہ کے درختوں میں ہو کہ ایک میں پھل زیادہ آئیں اور دوسرے میں کم یعنی مقدار کا مقابلہ ہوگا۔ایک مکان نہایت اعلی درجہ کا تعمیر کیا جائے جو نہایت خوبصورت ہو اس میں بظا ہر کوئی نقص بھی نہ معلوم ہوتا ہو۔مگر جب اس کو کوئی انجینیرز دیکھے اور دقت نظر کے بعد بتاتے کہ کچھ نقص ہے تو وه نقص فروعی ہوگا۔ایسا نقص عمارت کی شان میں مضبوطی اور آرام میں کوئی نقص پیدا نہیں کرے گا پس اصول کی موجودگی میں ایمان ہے اور فروعات کی موجودگی میں مدارج عالیہ حاصل ہوتے ہیں۔اب اظہار عقیدہ کے متعلق کچھ بیان کی ضرورت نہیں سوائے مختصر کے کہ کس طرح اظہار کرے مگر ضرورت اعمال کے متعلق بیان کرنے کی ہے۔چونکہ اعمال ایسے ہیں جو صاف نظر آتے ہیں اس لیے میں اعمال کے حصہ کو بیان کرونگا۔انشاء اللہ ارادہ ہے کہ ایک دو عمل سے کر جب تک مناسب ہو ان کی تفصیل بیان کر دیا کروں بنین بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انکا اثردل سے دل پر پڑتا ہے صوفیاء کا طریقی تھا کہ دل سے دل کو پڑھاتے تھے وہ تمام سبق اسی طرح پڑھتے تھے۔وہ بات زبان سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو ایک قلب سے دوسرے قلب کو بجلی کی رو کی طرح حاصل ہوتی ہے۔الفاظ کا اثر کانوں کے ذریعہ ہوتا ہے مگر الفاظ بعض کیفیات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اصل سبق تو وہی تھے جو قلوب کے ذریعہ توجہ سے ہوتے تھے مگر آجکل کے جھوٹے صوفیوں نے جن کا نام توجہ کہا ہے یہ نہیں۔وہ بچی خواہش اور کامل تزکیہ سے حاصل ہوتی ہے جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظل اور بروز کہا ہے۔ایک شخص خواہ کیسا ہی فصیح البیان ہو الفاظ کے ذریعہ ایک تصویر کو نہیں دکھا سکتا لیکن اگر فوٹو سامنے رکھ دیا جائے تو فوراً تصویر کی تمام چیزیں نظر آجائیں گی۔یہ بی نهایت