خطبات محمود (جلد 6) — Page 34
۳۴ عام قاعدہ یہی ہے کہ ایمان کا حصول قواعد کے ماتحت ہوتا ہے بس ضروری ہے کہ پہلے دل میں عقائد پر یقین ہو اور اس کا اظہارہ ہو اور اس پر عمل ہو ۔ ایک ایمان تو صرف مان لینے کا نام ہے۔ مگر میری ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو ثمرات والا ایمان ہے۔ زبانی ایمان نہیں ۔ اس درخت ایمان سے مراد ہے جس کیساتھ ضروری ہے کہ عقائد صحیحہ ہوں اظہار ہو اور اعمال ہوں ۔ وها پورا وہ اب معلوم ہونا چاہیے کہ تفاصیل میں بعض اصول ہیں۔ فروعات کے نقائص اعلیٰ مدارج میں روک ہوتے ہیں، لیکن اصول میں کمی آنا ایمان کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ اصول سے تو ایمان پیدا ہوتا ہے۔ فروعات میں سے اگر کسی شخص میں کچھ نقص ہے تو پھر مقابلہ اس طرح ہوگا کہ جتنی کسی فرع میں کمی ہوگی وہ اتنا ہی نیچے درجہ میں ہوگا اور جس نے جس قدر فروعات کو پورا کیا ہوگا وہ درجات عرفان میں بلند ہوگا۔ یہ مقابلہ ایسا ہی ہو گا جیسا کہ آم کے دو اعلیٰ درجہ کے درختوں میں ہو کہ ایک میں پھیل زیادہ آئیں اور دوسرے میں کم یعنی مقدار کا مقابلہ ہو گا ۔ ایک مکان نہایت اعلیٰ درجہ کا تعمیر کیا جائے جو نہایت خوبصورت ہو اس میں بظاہر کوئی نقص بھی نہ معلوم ہوتا ہو۔ مگر جب اس کو کوئی انجینیر دیکھے اور دقت نظر کے بعد بتائے کہ کچھ نقص ہے تو وہ نقص فروعی ہوگا۔ ایسا نقص عمارت کی شان میں مضبوطی اور آرام میں کوئی نقص پیدا نہیں کرے گا پس اصول کی موجود گی میں ایمان ہے اور فروعات کی موجودگی میں مدارج عالیہ حاصل ہوتے ہیں۔ اب اظہار عقیدہ کے متعلق کچھ بیان کی ضرورت نہیں ہوائے مختصر کے کہ کس طرح اظہار کرے مگر ضرورت اعمال کے متعلق بیان کرنے کی ہے ۔ چونکہ اعمال ایسے ہیں جو صاف نظر آتے ہیں اس لیے میں اعمال کے حصہ کو بیان کرونگا ۔ انشاء الله ارادہ ہے کہ ایک دو عمل لے کر جب تک مناسب ہو ان کی تفصیل بیان کر دیا کروں، بیکین بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انکا اثر دل سے دل پر پڑتا ہے صوفیاء کا طریقہ تھا کہ دل سے دل کو پڑھاتے تھے وہ تمام سبق اسی طرح پڑھتے تھے۔ وہ بات زبان سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو ایک قلب سے دوسر سے قلب کو بجلی کی رو کی طرح حاصل ہوتی ہے۔ الفاظ کا اثر کانوں کے ذریعہ ہوتا ہے مگر الفاظ بعض کیفیات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اصل سبق تو وہی تھے جو قلوب کے ذریعہ توجہ سے ہوتے تھے مگر آجکل کے جھوٹے صوفیوں نے جن کا نام توجہ کہا ہے یہ نہیں وہ بھی خواہش اور کامل تزکیہ سے حاصل ہوتی ہے جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظل اور بروز کہا ہے ۔ ایک شخص خواہ کیسا ہی فصیح البیان ہو الفاظ کے ذریعہ ایک تصویر کونہیں ہے دکھا سکتا ، لیکن اگر فوٹو سامنے رکھ دیا جائے تو فوراً تصویر کی تمام چیزیں نظر آجائیں گی۔ سبق نہایت بنه