خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 339

٣٣٩ وفات کے وقت بھی ایک تکلیف تھی، لیکن اپنی ذات کے متعلق نہ تھی۔ کہ آپ فوت ہوتے ہیں۔ بلکہ اس کے لیے تو آپ فرماتے ہیں۔ بالرفیق الاعلیٰ ۔ میں تو اپنے رفیق اعلیٰ کے پاس جانا چاہتا ہوں ۔ ہاں فکر ہے تو اس بات کی۔ اور غم ہے تو اس امر کا کہ کہیں آپ کی امت یہود کی مانند نہ ہو جائے۔ اور جیسا کہ یہود نے ا اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنا لیا۔ کہیں آپ کی قبر کو بھی مسجد اور عبادت گاہ نہ بنالیں۔ اور آپ کی پرستش شروع نہ کر دیں۔ آپ کو اس امر کی تکلیف تھی ۔ کہ کہیں آپ کے بعد آپ کی امت شرک میں مبتلا نہ ہو جائے ۔ پس جب آپ تکالیف سے نہ بچ سکے۔ تو اور کون ہے۔ جو بیچ سکتے۔ دنیا کی تکلیفیں اور کاوشیں اور محنتیں انسان کی زنیت کے رستہ میں ہی نہیں، بلکہ خدا کے رستہ میں بھی یہی سلسلہ ہے۔ جب تک انسان محفوظ نہ ہو جائے۔ لیکن یاد رکھنا چاہتے کہ ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے کچھ حاصل نہیں کیا ہوتا ۔ حاصل کر لینے والوں کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جنہوں نے آرام نہیں پایا ہوتا، لیکن نہیں آرام میسر ہو چکا ہو۔ ان کے لیے بے آرامی کا برداشت کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ دیکھو عام طور پر جنگل میں ایسا آدمی نہیں لٹتا جو جو کنا ہو- مگر بر خلاف ان میں جب انسان گھر کے قریب آکر خیال کر لیتا ہے کہ میں محفوظ ہوں۔ تو اس وقت چور اس کو لوٹ بینتے ہیں ۔ پس اسی طرح جب انسان کو ہدایت ملتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے ۔ کہ اس کی حفاظت کرے جو لوگ ہدا بیت پا کر غافل ہو جاتے ہیں۔ وہ ہدایت کو کھو دیتے ہیں۔ کیونکہ دنیا سونے اور آرام کی جگہ نہیں یہاں جس کو کچھ ملتا ہے۔ اور جس پہ ہر کوئی انعام ہوتا ہے۔ اس کو ورغلانے والے بھی ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دعا سکھلائی - رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَینا کہ الہی ہدایت کے بعد ہمارے دنوں میں زیخ پیدانہ کر دیا۔ پھر اس لیے تعلیم دی کہ پانچ وقت نماز میں دعا کیا کرو۔ غیر المغضوب عليهم ولا الضالین یہ دُعائیں اسی لیے ہیں کہ جب انسان کو ہدایت مل جاتی ہے۔ تو وہ خیال کرلیتا ہے۔ کہ آب میں امن میں آگیا ہوں ۔ حالانکہ وہ اس وقت زیادہ خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ کیونکہ اس شخص کے گرنے کا احتمال ہوتا ہے جو کسی چیز پر سوار ہو کسی شاعر نے اس بات کو اس طرح نظم کیا ہے ۔ گھر تا ہے شہ سوار ہی میدان جنگ میں وہ طفل کیا کریگا۔ جو گھٹنوں کے بل چلے یعنی بچہ نے کیا کرنا ہے۔ جو کہ پہلے ہی گھٹنوں کے بل چلتا ہے۔ گرتا تو وہی ہے ۔ جو بلندی پر ہو۔ ایک ایسا شخص جو ہر روز محنت کر کے اپنا اور اپنے بال بچوں کا روزانہ خریج مہیا کرتا ہے ۔ اگر اس کے گھر چور پڑے تو اس کا نقصان نہ ہو گا۔ اور اگر ہوگا ۔ تو زیادہ سے زیادہ یہ کہ ایک وقت کی خوراک جاتی رہے گی۔