خطبات محمود (جلد 6) — Page 337
63 ایمان کی حفاظت کرو دفرموده ۱۴/ نومبر ۱۹۱۹ تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت شریف رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الوَهّاب (ال عمران : ٩ ) پڑھی اور فرمایا :- انسان کے لیے اس دنیا میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔اور اسی وجہ سے انسانی زندگی کا مطالعہ کرنیوالوں نے ضرب المثل کے طور پر تیجہ نکالا ہے کہ انسانی زندگی کوئی پھولوں کا بستر نہیں بلکہ یہ ایک محنت اور کوشش کا زمانہ ہے۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں ایسی زندگی ملے جو غموں سے خالی ہو۔وہ نادان ہیں۔کیونکہ غموں اور فکروں سے خالی وہی زندگی ہو سکتی ہے جو جہالت اور نادانی کی زندگی ہو۔ورنہ دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہے۔یا تو دنیاوی معاملات کی الجھن لگی ہوگی۔یا دینی کاموں کا خیال ہو گا۔بالفاظ دیگر یا تو ایک انسان خدا سے غافل اور ہر طرف اس کے دنیا ہی دنیا ہو گی۔ایسا شخص دنیا کی ترقی میں لگا ہو گا۔اس صورت میں بھی زندگی امن سے نہیں گزر سکتی کیونکہ عزت و رتبہ بغیر محنت اور جدوجہد کے حاصل نہیں ہوتا۔اور پھر جس کو دنیا میں کوئی رتبہ اور عزت حاصل ہوگئی ہو۔اس کے لیے بھی ضرورت ہے کہ اس کے قیام کے لیے محنت و فکر سے کام ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص دنیا کو یہی سمجھتا ہو۔اور وہ خدا ہی کے لیے ہو گیا ہو تب بھی اس کو وہ آرام میں نہیں آئے گا جس کو جاہل لوگ آرام خیال کرتے ہیں۔اُسے اپنے نفس سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔اپنی خواہشات کو دیا نا پڑتا ہے۔دشمنوں کی شرارتوں اور تکلیفوں کو اُٹھانا پڑتا۔اور پھر اس کو ہی فکر دامنگیر رہتی ہے کہ دیکھتے موت کس وقت آتے۔اور مجھے کس حال میں پائے۔جب وہ ایک مقام پر پہنچتا ہے۔تو اس کو یہی فکر رہتی ہے کہ یہ مقام قائم رہے۔اور اس سے اگلا حاصل ہو لیس جس طرح ایک دنیا دار کے لیے فکر ہوتی ہے۔اسی طرح ایک اہل اللہ کے لیے بھی فکر ہوتی ہے۔دونوں صورتوں میں وہ زندگی میں کو لوگ آرام کی زندگی خیال کرتے ہیں۔نہیں ملتی وہ زندگی آرام کی زندگی نہیں