خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 330

ظاہر امام کی ضرورت نہیں ہیں یہ لوگ صحابہ کی بدگوئی کرکے ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو گئے۔اوران سے ایمان سلب کر لیا گیا۔چونکہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگ مرتد ہوگئے ہیں اور ان کو وہی کہا جاتا ہے جس کے دوستی ہیں۔اس لیے بعض لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ سب کے لیے اس قسم کے الفاظ کہے جاسکتے ہیں دیکھو نبی کریم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو اول ایمان لانے والوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا۔مگر با وجود اول ایمان لانے کے منافق تھا۔پھر مکہ سے ہجرت کرنے والوں میں سے بعض لوگ مرتد ہو گئے۔اب اگر کوئی شخص یہ خیال کر لیتا کہ ممکن ہے ابوبکر بھی مرتد ہو جائے۔اور چونکہ عبداللہ ابن ابی منافق ہے۔اس لیے عبادہ ابن صامت اور ابو ایوب انصاری بھی کیوں منافق نہ ہوں توی تخت نادانی اور غلطی تھی کیونکہ اگر اس دروازہ کو وسیع کیا جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔قرآن شریف میں حکم ہے کو صلح کی محبت اختیار کرو اسکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہی ایک ولی کا اس طرح ذکر ہے کہ اَخْلَدَ إِلى الأَرْضِ زمین کی طرف جھک گیا۔(الاعراف (۱۸۷) اب کوئی شخص جس کو کہا جائے کہ صلح کی صحبت اختیار کرو۔کہدے کہ جی ولیوں میں تو بلعم جیسے بھی کھوتے ہیں۔ہم کس طرح صحبت اختیار کریں تو ایسے آدمیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب کوئی بلعم بن جاتے اور مرتد ہو جائے۔اس وقت تم اس سے علیحدگی اختیار کرلو۔نہ یہ محض اس خیال پر کہ لوگ مرند بھی ہو جاتے ہیں۔سب سے بدظن ہو جاؤ۔اگر کوئی شخص مرتد ہو جاتا ہے۔یا حضرت اقدس علیہ السلام کے درجہ کو گھٹاتا ہے تو تم اس کو نفرت کی نظر سے دیکھو، لیکن یہ غلطی ہے کہ بعض لوگ خفیف باتوں پر فتوی دینے لگ جاتے ہیں کہ فلاں بڑا شریر ہے۔فلاں ایسا ہے ویسا ہے۔حضرت مسیح موعود کو ابتداء میں قبول کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت اقدس کو اس وقت قبول کیا۔جس وقت کہ لوگ آپ کو کافر اور دقبال کہتے تھے۔یا اس طرح کہنے والوں کے ساتھ شامل تھے۔ان کے متعلق احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔پس جن لوگوں نے ایسے وقت میں حضرت اقدس کو قبول کیا۔اور حضور کی صحبت میں رہے۔وہ بعد میں آنے والوں کے لیے استاذ اور نمونے کے طور پر ہیں۔اگر لوگ ان کی اتباع کرینگے۔تو یہ خدا کا حکم ہے اور اگر ان کی حقارت کرینگے۔تو تقویٰ کے درجات میں ترقی نہیں کر سکیں گے۔خدا تعالیٰ کے قرب کے لیے نہایت ضروری ہے کہ حفظ مراتب کا خیال رکھا جائے حضرت اقدس اکثر فرمایا کرتے تھے کہ عمر گر حفظ مراتب نه کنی زندیقی لے بلعم باعور