خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 33

٣٣ اگر وہ تفصیلی طور پر اپنے اعمال پر نظر ڈالے گا تو وہ معلوم کرے گا کہ میرے فلاں حصہ ایمان میں کی ہے اور وہ اس کی اصلاح کرے گا۔ بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ صحیح تشخیص کے بعد تھوڑی دوائی بھی مرض کو دور کر دیتی ہے لیکن عدم تشخیص کی صورت میں ایک بڑی قیمتی دوائی بھی کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ اسی طرح گو وہ اعمال جن پر ایمان کی کمی محسوس کرتے ہوئے لوگ زور دیتے ہیں۔ کتنے ہی مفید اور اعلیٰ درجہ کے کیوں نہ ہوں مگر ان نتائج میں وہ چیز حاصل نہیں ہو گی جس کی کمی انہیں محسوس ہوتی ہے ۔ ہاں کبھی تو صحیح نتیجہ نکل سکتا ہے، لیکن ہمیشہ نتائج صحیحہ مرتب نہیں ہو سکتے ۔ پس اگر ایمان کی تکمیل کی ضرورت ہے تو انسان کو چاہیے کہ اپنے عمل کی تفصیل پر نظر کرے ہر ایک عمل کو لیکر اللہ تعالیٰ کے احکام کو دیکھے پہلے اپنے ایک عمل کو لے پھر اس کے متعلق قرآن میں دیکھے کہ کیا میرا عمل قرآن کے حکم کے مطابق ہے یا خلاف ہے پھر دوسرے کسی عمل کو دیکھے ۔ پھر تیسرے کو دیکھے مثلا خل ہے۔ ایک شخص زکوۃ تو مقررہ دیتا ہے ۔ نماز روزہ کا بھی پابند ہے مگر اس کا دل مطمئن ادل مطمئن نہیں ہو گا کیونکہ بنخل جو ہے وہ اس میں پایا جاتا ہے جس کی قرآن پاک مذمت کرتا ہے۔ کیونکہ نخل جو ہے وہ انسان کو منافقت کی طرف لے جاتا ہے یا کوئی اور شخص ہو وہ اور تو تمام احکام شرعیہ پر عامل ہو مگر ظلم کرتا ہو تو وہ بھی ایمانی لذت سے محروم رہے گا اور ایمان کا کمال نہیں پیدا کر سکے گا۔ اس کو بھی چاہتے کہ وہ اپنے ایمان کا محاسبہ کرے اور دیکھے کہ میرے ایمان میں کوئی کمی ہے ۔ غرض تفصیلات کے دیکھنے سے انسان میں بصیرت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب کوئی انسان اعمال یا عقائد پر تفصیلی نظر کرتا ہے تو اس کو وہ سوراخ نظر آجاتا ہے جس کے باعث اس کا ایمان ناقص ہوتا ہے۔ اس وقت وہ اس کی اصلاح کر لیتا ہے ۔ اس لیے اس تمہید کے بعد میں چاہتا ہوں کہ تفصیلی طور پر ایمان کے متعلق بتلاؤں تفصیل دو قسم کی ہے (1) اعمال میں (۲) عقائد ہیں۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی نقص ہو تو عرفان میں نقص ہوگا ۔ ایمان صرف عقائد بہار ہو اور صحیحہ ۔ نہ کا ہی نام نہیں۔ بلکہ اس میں اعمال صالحہ بھی داخل ہیں ۔ دل میں عقیدہ ہو اور اس عقیدہ کا اظہار : اس کے مطابق عمل ہو۔ یہ ایمان ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے تینوں چیزوں کے مجموعہ کا نام ایمان رکھا ہے ۔ پیس! پس ایمان تب ہی مکمل ہو گا جب یہ تینوں حصے قائم ہوں ۔ ایسی حالت میں ہوگا انسان پر خدا کے عرفان کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور وہ اس میں خدا کے جلال کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس پر ایک مدت وارد کی جاتی ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں کو اس ط لوگوں کو اس طریق سے مستثنی کیا جائے اور خود خدا ان کو اپنی طرف کھینچ لے۔ میگر