خطبات محمود (جلد 6) — Page 325
۳۲۵ اس لیے ہم نے جو بات کی تھی۔ اس کی نقل بھی مولوی صاحب نے کرنی چاہی۔ جب حافظ صاحب نے ان سے ملاقات کرنی چاہی۔ تو کہ دیا کہ میں ان کے سوائے کسی اور سے گفت گو نہیں کر سکتا۔ حالانکہ ان کے لوگوں نے جب بھی مجھ سے گفت گو کرنی چاہی ہے۔ تو میں نے ان کو موقع دیا ہے ۔ یہاں ایسا ہوتا رہا ہے۔ شملہ میں عبد الحق مجھ سے گفتگو کیا کرتا تھا، لیکن ان کے ساتھ مباحثہ سے میں نے انکار کیا ہے کیونکہ یہ ہر شخص لہ یہ ہ شخص کی شان نہیں ہوتی کہ اس کو مد مقابل بنایا جائے ۔ سائل ہو کر جب بھی ان کے کسی آدمی نے گفتگو چاہی ہے۔ تو میں نے اس کو موقع دیا ہے، لیکن کہتے ہیں کہ نقل را عقل باید نقل تو کی میگر عقل کہاں سے لائے۔ مولوی محمد علی صاحب کے پاس حافظ صاحب نے جانا چاہا۔ اور خط لکھا تو لکھ دیا کہ مباحثہ تو انہیں سے ہی کروں گا۔ مگر ان کے نزدیک وہ امیر المومنین نہیں ہو سکتے تھے ۔ جب تک حافظ صاحب سے بحث سے انکار نہ کرتے ۔ حافظ صاحب نے نہایت لطیف اور منصر جواب دیا کہ اپنے آپ کو امیر المومنین لکھ دیا۔ میری طرف سے جو وفد گیا تھا۔ اس کے حافظ صاحب واجب الاطاعت امیر تھے ۔ اور وہ وفد مومنین کا تھا۔ اور ان پر حافظ صاحب کا حکم ماننا السا ہی فرض تھا ۔ جیسا کہ میرا۔ اس لیے مولوی محمد علی صاحب کو جواب دینے کے لیے یہ لکھنا درست تھا۔ کیونکہ جب کئی کروڑ مسلمانوں کے مقابلہ میں چند سو آدمی کے امیر مان لینے سے مولوی مولوی محمد علی صاحب امیر المومنین ہو جاتے ہیں۔ تو انہی کے قاعدے سے کئی لاکھ کی جماعت میں سے چند لوگوں کے امیر ہونے سے کیوں حافظ صاحب امیر المومنین نہیں ہو سکتے ۔ پھر مولوی صاحب تو صرف ایک آئین کے پریزیڈنٹ ہیں، لیکن حافظ صاحب میرے نائب ہونے کی حیثیت میں اس وفد کے افراد کے لیے واجب الاطاعت اطاعت تھے ہیں مولوی صاحب اگر کروڑوں مسلمانوں کے مقابلہ میں چند سو کی انجمن کے پریزیڈنٹ ہونے سے امیر المومنین کہلاتے ہیں۔ تو حافظ صاحب واقعی ان افراد کے امیر ہونے سے امیر المومنین کیوں نہ ہوں ۔ یہ ایک الزامی جواب تھا کہ جب ہر کوئی چند لوگوں کے تعلق سے امیر بن جاتا ہے۔ تو ہم بھی اس حیثیت سے امیر ہیں ۔ اور تم اپنی امارت کے خیال سے ہم سے بحث سے گریز نہیں کر سکتے ۔ غرض کہ بغض اور حسد ہی ہے جس نے ان کو حق کے قبول کرنے سے روک دیا۔ یہ نتیجہ ہے غیر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ کا ۔ دیکھو چھوٹی چھوٹی باتوں سے بگڑ کر انہوں نے باتوں مخالفت کی تلوار اُٹھائی۔ اور اپنے آقا پر اُٹھائی۔ اور تیر چلایا ۔ اور اس درخت کی جڑ پر چلایا میں پر بیٹھتے تھے اور اس چشمہ کو گندہ کرنا چاہا جس سے پانی پیتے تھے نہیں مومن کو ہر وقت شیطان کی چالاکیوں