خطبات محمود (جلد 6) — Page 324
۳۲۴ تو یہی ہے، لیکن اظہار کی طاقت نہیں ۔ اعتراض تو ہم پر کرتے ہیں کہ ہم مسلمانو کو کا فرکتے ہیں، لیکن عملا وہ بھی کا رکتے ہیں۔ اگر عربی کا میر نہیں۔ تو اردو کے امیر ہی ہوتے بمعنی دولتمند، لیکن یہ بھی نہیں پس وہ چند آدمیوں کے ساتھ ہو جانے کے ساتھ امیر المومنین کیونکر ہو گئے ۔ ارید ہم امیرالمومنین ہیں۔ اور یہیں جماعت کے اکثر حصہ ے امیرالمومنین تسلیم کیا ہوا ہے۔ چند لوگ ہیں جو باغی ہو کر جماعت سے علیحدہ ہو گئے ہیں، لیکن جو شخص چند کولے کر دعوئی امیر المومنین ہونے کا کرتا ہے ۔ اس کا دعویٰ غلط اور اس کا یہ کہنا بھی غلط کہ سب مسلمان کہلانے والے کا فرنہیں جو لوگ ہماری بیعت میں داخل نہیں۔ ہم انہی کا فرنیں کہتے جب تک کہ وہ حضرت اقدس کی کلی کلی تحریروں کا انکار نہیں کرتے۔ ہم انہیں باغی کہیں گے ہیں قریباً تمام جماعت احمدی نے ہمارے ہاتھ پر بیعت کر کے ہمارے امیر المومنین ہونے پر اجماع کر لیا ہے ۔ وہ لوگ جو ہماری جماعت سے الگ ہیں۔ وہ باغی ہیں۔ اور ان کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔ مَن فَارَقَ الجَمَاعَةَ فَمِيْتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ جدھر کثیر جماعت کا حصہ ہے۔ دراصل وہی جماعت ہے۔ ادھر انہوں نے حضرت اقدس کی نبوت سے انکار کیا اور کہا کیا کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ یا اسقدر فراخی کی کہ کہ دیا کہ نبی کہتے ہیں۔ خبر دینے والے کو پیس شخص جو سی قسم کی خر دیتا ہے ۔ نبی ہے۔ ہر ایک بات جو سلسلہ کے لیے بطور ستون کے نتھی اس کو مٹا دینا چاہا۔ خدا کے مامور کی تنگ کی گھر میں ضد کی ۔ اس کا نتیجہ معلوم کہ سب مسلمانوں کو عملاً کا فرکہ دیا ، حافظ صاحب مولانا حافظ روشن علی صاحب مراد ہیں۔ راقم نے شملہ میں ایک لطیف جواب مولوی محمد علی صاحب کو دیا ۔ اس پر چونکہ زبانی اور تحریری اعتراض ہوا ۔ اس لیے میں اسی کے متعلق بیان کرتا ہوں ۔ بات یہ ہے کہ ان کی طرف سے جب مباحثہ کے لیے عبد الحق اور مرہم عیسی جیسے جہلا پیش ہونے لگے۔ تو میں نے کہا تم سے مباحثہ نہیں ہو سکتا۔ ان کے علما ، جہلامہ ہیں ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان تباہ اس وقت ہوں گے جب ان کے پیشوا جہلا۔ ہوں گے لیے تو ان کے علماء مدثر شاہ - مرہم عیسی عبدالحق ہیں۔ جو قرآن کریم کے ایک رکوع کا صیحیح ترجمہ بھی نہیں کر سکتے۔ چونکہ مولوی محمد علی صاحب ہماری ہر ایک بات میں نقل ضروری سمجھتے ہیں۔ اور ہم اس سے خوش ہیں۔ کیونکہ نقل آدمی اسی بات کی کرتا ہے ۔ جس کو وہ پسند کرتا ہے ۔ له مجمع بحار الانوار جلد ۳ ص ۷۳ بخاری و مسلم بحوالہ مشکوة كتاب الفتن فيما تكون فيها الى قيام الساعة ال