خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 316

کو علم نہ تھا۔نیس ہی ایک مثال ہے۔جو استعفیٰ کی ملتی ہے۔ورنہ اسلام کے سارے زمانے میں ایک بھی نظیر نہیں کہ کسی شخص کو کسی کام پر مقرر کیا گیا ہو اور اس نے اس کام سے نفرت یا خلاف طبیعت ہونے کے باعث علیحدگی چاہی ہو۔اور کہا ہو کہ یہ کام میری طبیعت کے مخالف ہے ، اور مجھے اس کام سے لگاؤ نہیں۔یہ کام میری لیاقت سے بالا ہے۔مجھے اس سے دلچسپی نہیں۔کیونکہ یہ نفس کے دھو کے ہیں۔کیا اسامہ کبر تھاکہ اس کے ماتحت عمر اور عمرو بن العاص اور خالد بن ولید ایسے اشخاص کو کر دیا یا عرب کے سب کے سب لوگ اس قسم کے تھے کہ وہ انکسار مجسم تھے۔یا عرب کے لوگوں کو ہرا ایک کام سے جس پر انہیں متعین کیا جاتا تھا۔فطرتی لگاؤ تھا یا ان سے غلطی نہ ہوتی تھی۔ان میں سے کوئی بات بھی نہ تھی۔نہ تو عرب کا ہر ایک باشندہ علم و ہنر کا ماہر کامل ہوتا تھا۔نہ یہ کہ انتخاب میں غلطی نہ ہوتی تھی اور تو اور بعض اوقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انتخاب میں غلطی ہو جاتی تھی۔پہلے آپ ایک شخص کو مقرر کرتے مگر پھر اس کو بدل دیتے۔اور اس کی جگہ ایک اور شخص کو کھڑا دیتے۔فتح مکہ کے موقع پر ایک شخص کو افسر مقر فرمایا لیکن تھوڑی دیر میںاس کو بدل کر دوسرا مقرر کر دیا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انتخاب میں غلطی ہو جاتی تھی۔حضرت ابو بکر نے خالد کو افسر بنایا، لیکن حضرت ہم نے ان کو بدل کر ابو عبيد بن الجراح کو مقرر فرما دیا۔ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک شخص احق تھا، لیکن اس ادل بدل میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ مجھے اس کام سے معاف فرمایا جاتے۔کیونکہ جب انہوں نے بعیت کی تھی۔تو بیعت کرنے والے کو اختیار نہیں ہوتا ، کہ وہ یہ سوال اُٹھاتے کہ میں یہ نہیں کر سکتا۔یا وہ نہیں کر سکتا۔کیونکہ بیعت کرنے والے نے اپنی آزادی توزیع دی۔اگر وہ یہ ہے کہ میں یونہیں کر سکتا تو اس نے خدا کے ہاتھ پر یا اس کے نائب کے ہاتھ پر کیا بیعت کی کیونکہ وہ تودہ کام کرتا ہے جو اس کا نفس چاہتا ہے جب نفس کے خلاف ہوتا ہے تو کہدیتا ہے کہ میرا استعفیٰ ہے۔شنوی والے کہتے ہیں کہ چوہا اونٹ کی مہار پکڑ کر ادھر لے جاتا ہے۔جدھر اونٹ جارہا ہو۔لیکن اگر اونٹ ادھر نہ جانا چاہتا ہو آدمی بھی اُدھر مشکل سے لے جاسکتا ہے۔اسی طرح اگر ادھرنہ۔له سعد بن عباده و نه سیرت ابن ہشام جلد ۲ حالات فتح نکته