خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 315

۳۱۵ نے کیا کیونکہ اس حکم کی بجا آوری اس کی جان کے ساتھ وابستہ تھی۔نا واقف لوگ سمجھتے ہیں۔اور منافقوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت میں سمجھا کہ اسامہ رسول کریم کے لے پالک کا بیٹا ہے۔اس کو نا جائز طور پر افسری دے دی لیکن نادان نہیں جانتے کہ اساللہ تو اس کو اپنی شہادت خیال کرتا تھا۔مثلاً آج ہم تبلیغ کے لیے کوئی وفد بجھیں اور زید یا بکر کو جو ایک چھوٹے درجہ کا آدمی ہو۔اور کوئی علمی قابلیت اپنے اندر نہ رکھتا ہو۔اس کے ماتحت مولوی سید سرور شاہ صاحب حافظ روشن علی صاحب۔قاضی سیدامیرحسین صاحب کو کر دیں۔تو کیا ایسا شخص جس کو ان پر افسر کیا جائے۔اس افسری پر خوش ہو سکتا ہے اور فخر کر سکتا ہے ؟ یقینا وہ تو اسے آزمائیش خیال کریگا۔اور جانے گا کہ مجھ پر امتحان کا وقت آ رہا ہے۔پس ایسی حالت میں اسامہ نے اپنے تئیں اس کام کے جو اسے سپرد کیا تھا۔نا قابل ظاہر کر کے علیحدگی نہیں چاہی۔اور یہ نہیں کہا کہ میں استعفی پیش کرتا ہوں۔اور اگر وہ ایسا کرتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ میں دین سے علیحدہ ہوتا ہوں۔اسی طرح ہم دوسرے کاموں کو دیکھتے ہیں کہ ملا حضرت عمر ابو عبیدہ کو کمانڈر مقرر کرتے ہیں۔اور ان کے ماتحت خالد کو کرتے ہیں۔جو ایسا شخص تھا، لڑائی میں پیدا ہوا۔لڑائی میں پلا اور جوان ہوا۔اور جس کے سر کی چوٹی سے پاؤں کے تلووں تک کوئی جگہ ایسی نہ تھی۔جس پر تلوار اور نیزے کے زخم نہ ہوں۔ابو عبیدہ وہ شخص ہیں جو واعظ اور امین تو ہیں مگر سپاہیاں اوصاف کے نہیں۔ان کے ماتحت خالد کو کیا جاتا ہے۔ابو عبیدہ یہ نہیں کہتے کہ میں اس خدمت کا اہل نہیں مجھے معاف کیا جائے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ میں اس خدمت کے لائق نہیں۔وہ یہ نہیں کتنے کہ مجھے اس بوجھ سے سبکدوش کیا جائے۔وہ اس خدمت کو بجالاتے رہتے ہیں۔اس وقت تک کہ ان کی جان نکل جاتی ہے۔ساری اسلامی تاریخ میں اس خلافت کے عرصہ میں جو رسول کریم نے مقرر کیا ہے کسی کا استعفیٰ نظر نہیں آیا کہ کسی شخص نے یہ کہا ہو کہ میں اس کام کو پسند نہیں کرتا۔یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکتا۔میں استعفی پیش کرتا ہوں۔اس عرصہ میں صرف ایک نظیر استعفیٰ کی ملتی ہے۔جو وہ بھی اس طرح نہیں کہ اس کام سے نفرت کے باعث استعفی پیش کیا گیا ہو۔وہ واقعہ حضرت عثمان کے وقت کا ہے کہ ایک قاضی جو بہت بڑی عمر کے ہو گئے تھے اور چلنے پھرنے اور گھر سے نکلنے تک سے معذور ہوگئے تھے انہوں نے حضرت عثمان سے عرض کیا تھا کہ اگر اجازت ہو۔تو میں اپنے کام سے استعفی پیش کرتا ہوں اور وہ واقعہ میں کام کے ناقابل تھے۔چونکہ وہ دور رہتے تھے۔اس لیے ان کی حالت کا حضرت عثمان