خطبات محمود (جلد 6) — Page 311
۳۱۱ - سے۔ い لوگ روتے ہیں کہ مسلمانوں کی حکومت چلی گئی ۔ میں کہتا ہوں کہ رونے کا تو یہ مقام ہے کہ روحانیت ملی گئی۔ اسلام تو اس وقت بھی اسلام ہی تھا۔ جبکہ مسلمانوں کو حکومت نہیں ملی تھی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی خدا کے نبی تھے۔ جب آپ کو بادشاہت نہ ملی تھی ۔ آپ تیرہ سال مکہ میں رہے ۔ کیا آپ اس وقت رسول نہ تھے۔ اور آپ کی وہ شان نہ تھی۔ اور کیا اس وقت اسلام، اسلام نہ تھا ۔ بادشاہت تو ایک ضمنی چیز ہے ۔ اگر لوگ انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں تلوار نہ اُٹھاتے۔ تو مسلمانوں کو بھی تلوار اٹھانے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ جب کفار نے تلوار اُٹھائی تو ان کے شر کو روکنے کے لیے تلوار کھانا لازمی تھا۔ اور اس رنگ میں اسلام کو ظاہری غلبہ بھی حاصل ہو گیا۔ اور رسول کریم کو حکمرانی حاصل ہوئی۔ یہ سچ ہے کہ اگر بادشاہت نہ آتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کئی کمالات کا اظہار نہ ہوتا۔ اور لوگ آپ کی کئی صفات سے بے خبر اور نا واقف رہتے۔ مثلاً آپ کے رحم چشم پوشی ریاست اور اعلی درجہ کا جزیل ہونے سے لیکن حکومت نے آکر آپ میں یہ صفات پیدا نہیں کیں۔ بلکہ یہ آپ میں پہلے ہی موجود تھیں۔ ہاں اگر آپ کو حکومت نہ ملتی تو دنیا کو یہ نہ معلوم ہوتا کہ آپ میں یہ کمالات ہیں پس یاد رکھنا چاہیئے کہ اسلام حکومت نہیں۔ روحانیت ہے، اگر روحانیت مٹ جاتے اور تمام کی تمام حکومتیں مسلمان کہلانے والوں کی ہو جائیں ۔ تب بھی اسلام کا اس میں کچھ فائدہ نہیں ، ہاں اسلام کی طرف منسوب ہونے والی سلطنتوں سے اسلام کی ظاہری عظمت کسی قدر ہو سکتی ہے ۔ مگر آج تو یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو اسلام سے نفرت ، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان احکام کی پابندی کی ضرورت نہیں۔ جو اسلام نے دیتے ہیں جب مسلمان کہلانے والوں کا یہ حال ہو۔ تو پھر اگر غیر اسلام سے نفرت کریں، تو ان کو کیا الزام دیا جا سکتا ہے ۔ ہیں چاہتے کہ دین کی حالت سے آگاہ ہو کر اس حالت کو بدل دیں۔ اللہ تعالیے توفیق دے کر ہم ان عہدوں کو پورا کریں ۔ جو اس کے نبیوں اور ان کے قائم مقاموں سے کہتے ہیں۔ تا خدا تعالیٰ دنیا میں پھر اسلام کی عظمت کو قائم کر دے ۔ آئین ۔ ہے وہ الفضل دار اکتوبر شاله )