خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 306

کے ساتھ بھی جھگڑا ہو جو کسی دوسری سلطنت میں رہتا ہو تو سلطنتیں اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔یہ مذہبی جمیت ہوتی ہے۔وہ لوگ اس کو محض انسانی ہمدردی قرار دیتے ہیں، مگر جب افریقہ کے وحشیوں پر ظلم ہوں تو انسانیت کا خیال پیدا نہیں ہوتا اور کہدیا جاتا ہے کہ یہ تمدن کا فرق ہے۔اور وہ لوگ ایسا کہنے پر مجبور تھے، لیکن درحقیقت وہ عیسائیت کا رشتہ ہوتا ہے مسلمانوں نے ایک دوسرے کی مدد نہ کر کے اپنی تمام سلطنتوں کو کھو دیا۔ان لوگوں کے لیے جو نتیجہ نکلا۔وہ طبعی تھا۔کیونکہ ان کے اکیس میں سخت فساد و اختلاف تھے۔اور بیرونی دشمن تاک میں تھے۔اور کوئی سنبھالنے والا نہ تھا۔اور ان کے دل گھر میں مبتلا تھے۔لیکن تم وہ ہو جوکہتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔واقعہ میں اگر تم اسی مقام پر کھڑے ہو جس پر کھڑے ہونے کے مدعی ہو۔تو اسلام تمہیں میں ہے۔پس اگر تم میں بھی وہ بے حمیتی اور ہمدردی کا فقدان اور عدم محبت ہو تو پھر کتنے افسوس کی بات ہے۔اگر تم انہیں کا رویہ اختیار کرو گے تو غور کر لو کہ جب زیادہ کو تباہ کر دیا گیا تو تم جو چند لاکھ ہو۔تمہا را تباہ کرنا کونسا مشکل کام ہے اور تمہاری حیثیت ہی کیا ہے۔کھتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنی بیٹی کا ایک جگہ یہ کرنا چاہا، مین بعدمیں رشتہ کرنا ناپسند ہوا۔اس لیے تدبیر کرنے لگا کہ کسی طرح بہ رشتہ نہ ہو۔وزراء سے مشورہ کیا کہ کیا تدبیر اختیار کرنی چاہیئے۔وزران نے کہا کہ لڑکے کے باپ بادشاہ سے یہ شرط کرنی چاہیئے کہ برات میں تمام جوان ہی جوان ہوں لڑکے والوں نے اس شرط کو قبول کر لیا۔جب برات روانہ ہونے لگی۔تو لڑکے کے باپ کے وزیر نے کہا کہ مجھے کسی نہ کسی طرح ضرور بھیجدو - کہ میں کام آؤں گا۔آخر اس وزیر کو چھپا کر لے گئے۔لڑکی والوں کی طرف سے وہاں پہنچتے ہی یہ نئی شرط پیش ہوئی کہ ہر ایک شخص ایک ایک برا کھاتے۔تو ہم لڑکی دینگے۔لوگ حیران ہوتے۔کہ اب کیا کریں۔آخر اس بوڑھے کی طرف متوجہ ہوتے بوڑھے نے کہا کہ تم کہو۔ہم باتیں شرط اس شرط کو پورا کرتے ہیں کہ تم ایک ایک بکرا ذبح کر کے لاتے جاؤ۔اس طرح انھوں نے سب بکرے کھا لیے اور لڑکی بیاہ لے گئے۔تو ہماری مثال بھی ایسی ہی ہے کہ اگر ہماری تمام جماعت ایک جگہ ہوتی تب بھی البتہ ایک بات تھی، لیکن اب تو حالت اس کے خلاف ہے کیونکہ مختلف جگہوں میں پھیلے ہوتے ہیں پس اس پراگندگی پر پھر کیا حیثیت ہے۔ہیں ہیں پھر یہی حیثیت ہے جیسی ایک بکرے کی ایک برات کے سامنے۔ہماری جماعت مختلف جگہوں میں پھیلی ہوئی ہے۔اس کی تباہی اس صورت میں کچھ بھی شکل نہیں۔اگر اسکے افراد میں آپس میں محبت و ارتباط نہ ہو۔یہ تو خدا تعالیٰ کی نصرت ہے کہ با وجود مختلف