خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 302

۳۰۲ تم خدا کے دشمن نہیں تو کامیاب ہو گئے، بلکہ اسلام تمہیں اس وقت نیکی کی راہ پر قدم زن قرار دیگا جب تم خدا کے دوست ہو گے ۔ اسی طرح اسلام یہ نہیں کہے گا کہ تم لوگوں کے دشمن نہ ہو۔ کیونکہ یہ تو ایک ادنی درجہ کی بات ہے ۔ اصل یہ ہے کہ تم لوگوں کے دوست ہو بہت لوگ خوش نہیں کر وہ کسی کے دشمن نہیں ۔ حالانکہ شریف کے دل میں کینہ نہیں ہوتا۔ یہ تو ایسا ہی فخر ہے ۔ کہ ایک انسان کے میں انسان ہوں، حالانکہ فخر کی بات ت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اعلیٰ درجہ کا انسان ہو۔ اگر کوئی شخص گدھوں اور گیتوں میں کھڑا ہو کر مسخر کر ہے کہ میں انسان ہوں۔ تو یہ اس کا فخر بجا ہوگا، لیکن ہو گا اس کے پاگل پن کی دلیل کیونکہ گدھے ندھے اور کتے نہیں جانتے کہ فرق مراتب کیا ہے ۔ ہاں انسانوں میں انسان کا دعویٰ فخر البتہ ایک بات ہوگی ۔ ۔ سوائے اخلاقی لحاظ کے کہ بعض حالتوں میں انسان گدھے کے مشابہ ہوتا ہے کبھی بعض میں گتے کے، لیکن جسمانی لحاظ سے یہ حالت نہیں ہوتی ، اور ایک انسان جسمانی حال میں تنزل کر کے انسان سے گدھا یا گتا نہیں بن سکتا ۔ پس عدادت ایک ایسا درجہ ہے کہ اس سے انسان ابتر ہی نہیں سکتا۔ پس جو شخص اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس کو کسی سے عداوت نہیں ۔ اس کی یہ خوشی اور فخر ایسا ہی ہے ۔ جو کوئی انسان کہے کہ میں گدھا نہیں ۔ حالانکہ گدھا نہیں۔ حالانکہ فخر تو اس پر ہونا چاہیئے کہ انسانوں میں سے اعلیٰ انسان ہے اور پھر فخر بھی وہ فخر جو تکبیر والا نہ ہو۔ وه پس اگر انسان کو قابل فخر کوئی بات بناتی ہے۔ تو وہ دشمنی اور عداوت کا نہ ہونا نہیں۔ بلکہ دوستی اور محبت و اخلاص اور پایہ ہیں۔ یہ خوبی جائزہ فخر ثابت کرتی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسانوں سے محبت و اخلاص کے تعلقات رکھتا ہے ۔ تعلقات کے تین مدارج ہیں ان میں ادنی اور ذلت و رسوائی کا درجہ دشمنی کا ہے۔ وہ دشمنی جو خدا کے لیے نہ ہو۔ اور جو دشمنی خدا کے لیے ہو۔ وہ دراصل دشمنی نہیں۔ محبت ہے۔ کیونکہ خدا کسی کا دشمن نہیں ۔ اگر خدا کے لیے کسی سے بغض ہے تو وہ بعض و دشمنی نہیں ۔ بلکہ اصلاح ہے اور شخص مصلح ہے ۔ ہاں جب اپنے لیے یا اپنے عزیزوں ۔ بیوی بچوں ۔ دوستوں کے لیے ہے وہ تو واقعی بغض فیض ہے۔ جو بد ترین ذلت کا درجہ ہے ۔ خدا کے لیے جو بعض ہے لغت کے لحاظ سے ہم اسے فیض اور دستی ہی میں گے ۔ ورنہ درخت دشمنی کہیں گے ۔ در حقیقت وہ اصلاح ہے۔ اس درجہ سے اوپر کا درجہ یہ ہے کہ انسان کو نہ کسی سے دشمنی ہو۔ اور نہ کسی سے دوستی ۔ جیسا کہ ریل میں دو آدمی بیٹھتے ہیں۔ ایک ایک کھڑکی میں دوسرا دوسری میں کہ نہ ان میں تعلقات دوستی ہوتے