خطبات محمود (جلد 6) — Page 301
57 خدا کی مخلوق سے محبت خدا کی محبت کا ثبو تھے (-1919 دفرموده ۲۶ستمبر ۱۹۱۹ حضور نے تشہد اور تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت شریفہ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا ولا تفرقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءَ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ جم فَانْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ التِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ( آل عمران : کی تلاوت کی اور فرمایا کہ : اسلام سب مذاہب میں سے ایک ہی مذہب تسلیم کرنا چاہتے ہو ہر ایک چیز کے مدار تسلیم کرتا ہے مومن لوگ مدارج کا خیال نہیں رکھتے، خود مسلمانوں میں سے بھی بعض نے قرآن کے اوپر پورا تدبر نہ کرنے اور ائمہ کے اقوال پر غورنہ کرنے سے کفر و ایمان کے درجات کی تقسیم سے انکار کیا ہے، حالانکہ نہ یہ قرآن سے ثابت ہے نہ ائمہ کا یہ مذہب تھا۔قطعا کسی امام کا یہ مذہب نہ تھاکہ کفرو ایسان کے مدارج نہیں۔قرآن شریف ہی وہ کتاب ہے جو ہر چیز کے مدارج بیان کرتی ہے۔انسان کے مدارج۔تقویٰ کے مدارج تعلق باللہ کے مدارج - ایمان کے مدارج - گھیر کے مدارج - نیکی اور بدی کے مختلف مدارج غرض ہر چیز کے مختلف مدارج ہیں۔ایک اسلام کی ہی تعلیم ہے جو ہر چیز کو اس کے مراتب اور اسکی حقیقت کیساتھ بیان کرتی ہے اور مذہب اس حقیقت کونہیں مجھے اور با سلام اور دیگر مذاہب می نمایاں فرق ہے۔میں جس مضمون کی طرف آپ کی توجہ پھیر نی چاہتا ہوں۔وہ تبھی مدارج رکھتا ہے۔اور وہ کسانی تعلقات کے مدارج میں جسطرح خدا کے انسان کیسا تھ تعلق کے مدارج میں اس طرح انسانوں کے آپس کے تعلقا نیچے بھی مدارج ہیں جس طرح خدا سے بہتر سے بہتر تعلق ہونا چاہیئے۔ایسا ہی انسانوں میں بھی آپس میں ہونا چاہتے۔اسلام اس بات کا کم نہیں دیتا کہ انسان آپس میں ہم نہ ہوں بلکہ اس سے زیادہ کا حکم دیا ہے۔سلام نہیں تا کہ جب