خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 3

بشه ہمارے مقابلہ میں تو ساری دنیا کے دریاؤں کے دہانے کھول دیئے گئے ہیں۔ پھر ہماری کوششوں کا یہ حال ہے کہ گویا ہم سو رہے ہیں۔ مگر جب ایک وقت گذر جاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے قدم پیچھے نہیں ہٹے۔ بلکہ اور زیادہ آگے بڑھ گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے قدم ہماری کوششوں سے نہیں بڑھ رہے ۔ بلکہ کوئی اور ہی طاقت ہے جو انھیں بڑھا رہی ہے پیس ہماری جماعت کے لوگوں کا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے خدا کا شکر ادا کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لَا زَيْدَ نَكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ را براهیم : " کہ اگر تم شکر کرو گے تو اور زیادہ دونگا۔ اور اگر کفر کرو گے تو میرے پاس سخت عذاب بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل جس قدر ہم پر ہو رہے ہیں۔ ان کا ایک نمونہ تو کسی جلسہ ہے جو بھی ہوا ہے۔ اس دفعہ بعض واقف کاروں نے کہا تھا کہ پہلے کی نسبت نصف لوگ آئیں گے اور اس کی وجوہات یہ بیان کی تھیں کہ (1) مختلف قسم کی بیماریاں اور عوارض کی کثرت ہے (۲) قحط ساں ہے اور عوارض کہ (۳) پہلے جلسوں میں تو کرایہ میں تخفیف ہو جایا کرتی تھی مگر اب کے اور بڑھ گیا ہے (ہ بعض جگہ کی رینیں بند کر دی گئی ہیں۔ یہ تو انسانی انداز سے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت میں جو اخلاص اور جوش پیدا کر دیا ہے اس کی وجہ سے اب کے پہلے کی نسبت کئی سو آدمی زیادہ آیا ہے پھر جماعت کے اخلاص - قربانی اور جوش میں بھی پہلے کی نسبت بہت زیادتی ہوتی ہے۔ کیا یہ ہماری کسی کوشش اور سعی کا نتیجہ ہے۔ نہیں ! بلکہ خدا کے فضل اور احسان کا نتیجہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کہتا ہے۔ اگر انعام حاصل ہونے پر میرا شکر کرو گے تو میں اسے اور بڑھا دونگا اور اگر نہیں کرو گے تو پھر یہی نہیں کہ وہ انعام ہی چھین لونگا۔ بلکہ عذاب میں مبتلا کر دونگا ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں کئی لوگ ایسے ہیں جو صرف جلسہ کے قریب دو مہینے جاگتے ہیں اور باقی سارا سال ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ یہاں بھی ہیں اور باہر بھی انھیں اس عرصہ میں خیال تک نہیں آتا کہ ہمارا بھی کوئی فرض ہے۔ وہ ایک لمبا عرصہ سوتے رہتے ہیں۔ اور اس دیو کی طرح سوتے ہیں جس کے متعلق ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ چھ ماہ سوتا تھا اور چھ ماہ ہیں کے متعلق سنا کرتےتھے کہ چھ ماہ ہوا تھا اور چھ ماہ جاگتا مگریہ و دیش ماه تو سوتے ہیں اور دو ماہ جاگتے ہیں ۔ وہ دیکھ لیں کہ ان کے دو ماہ جاگنے پر جب خدا تعالیٰ استقدر انعام او فضل دوماہ پر کرتا ہے تو اگر وہ سارا سال جاگیں تو کس قدر کریگا مگر کئی لوگ ہیں کہ جب جلسہ سے واپس جاتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ بس ہمارا فرض ادا ہو گیا۔ اب اگلے جلسہ پر ہی کچھ کر ینگے فی الحال آرام کر لیں۔