خطبات محمود (جلد 6) — Page 299
۲۹۹ CL باتیں ہیں جن کے سمجھنے میں ذوق اور تجربہ کو دخل ہے۔ اس کی وجہ اس کی سمجھ میں آسکتی ہے جو ذوق اور تجربہ رکھتا ہو۔ اس کی مال ایسی ہی ہے جیسا کہ ہم کو یہ تانا چاہیںکہ مٹھاس کیا ہوتی ہے۔ اگر کسی نے بھی میٹھا چکھا ہی نہیں، تو ہم اسے زبانی طور پر ہرگز نہیں سمجھ سکتے کہ مٹھاس کیا ہوتی ہے ۔ ہاں جس نے چکھا ہو۔ اسکو ٹھاس کی کمی یا زیادتی بتائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ایک ایسا شخص جس کی آنکھیں ہیں۔ اور جس نے سورج کی روشنی دیکھی ہے اس کو بتا سکتے ہیں کہ فلاں روشنی مدہم تھی یا تیز۔ فلاں سیاہی مائل تھی یا سبزی، فلاں سفیدی مائل تھی یا زردی، غرض اُسے کئی کیفیتیں روشنی کی تلائی اور سمجھائی جاسکتی ہیں، لیکن جو جنم کا اندھا ہو۔ اس کو کچھ نہیں سمجھا سکتے تو ایسے امور جو فروغ کہلاتے ہیں۔ بلحاظ اس کے کہ ایمانیات سے تعلق نہیں رکھتے۔ ایسے ہی لوگوں کی سمجھ میں آسکتے ہیں جنھوں نے ایک حد تک ان کا تجربہ کیا ہو اور کسی قدر مزا چکھا ہو۔ انہی امور میں سے ایک دعاؤں کے قبول ہونے کے خاص اوقات ہیں۔ ہر شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ کیا وجہ ہے کہ جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی ایک خاص گھڑی ہوتی ہے۔ البتہ بعض ایسی باتوں کو لوگ سمجھتے ہیں۔ جن کی کوئی وجہ انہوں نے قرار دے لی ہوتی ہے۔ ملا یہ سمجھتے ہیں کہ رات کو خدا تعالیٰ دعا خاص طور پر سنتا ہے کیوں اس لیے کہ رات کو انسان جاگتا اور تکلیف اُٹھاتا ہے، لیکن دراصل دعا کے قبول ہونے کی یہ وجہ نہیں ہے کیا اگر کوئی شخص دس پندرہ میں دوڑ کر دعامانگے تو اس کی دعا اس لیے قبول ہو جائیگی کہ اس نے تکلیف اُٹھائی ہے یا اگر کوئی ساری رات جاگتا رہے اور دن کو دُعا مانگے، تو اس کی دُعا قبول ہو جائے گی۔ نہیں۔ کیونکہ صرف رات کا جاگنا اور تکلیف اٹھانا دعا کے قبول ہونے کا باعث نہیں ۔ گو ایک حد تک یہ بھی درست ہے کہ رات کو جاگئے اور تکلیف اُٹھانے سے دعا قبول ہوتی ہے، مگر دُعا کے قبول ہونے کی اصل وجہ یہیں نہیں ہے، ورنہ اگر یہ وجہ ہوتی ۔ تو چاہتے تھا کہ جتنی کوئی زیادہ تکلیف اُٹھاتا۔ اتنی ہی جلدی اس کی دعا قبول ہوتی، پھر جمعہ کی دعا ہے ۔ عرفات کی دُعا ہے کعبہ پر پہلی نظر پڑنے کے وقت کی دُعا ہے ان اوقات کی دُعائیں کیوں خاص طور پر قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہیں۔ ان کی کوئی وجہ نہیں سمجھائی جاسکتی ۔ کیونکہ دراصل یہ ذوقی سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں اور جو ذوق نہ رکھتا ہو۔ اس کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان واقعات کا دُعا کے ساتھ خاص تعلق رکھنے کا ظاہری طور پر انکار کوئی نا وات سے ناواقف ہی مسلمان کرے تو کرے، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بہت کثرت سے لوگ ان کا عملاً انکار کرتے ہیں۔ جبکہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے، اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے، تو باوجود اسیس کے کہ زبان سے مانتے ہیں کہ ایسے اوقات اور گھڑیاں مریں جن میں دعائیں خاص طور پر منظور ہوتی ہیں لیکن عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ وجہ یہ کہ چونکہ اس کوچہ سے نا واقف اور اس مذاق سے بے بہرہ