خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 295

۲۹۵ اور وہ اس طرح کہ میں نے جب اونٹ خریدے تھے تو نکیل سمیت خریدے تھے اور فروخت بغیر نکیل کے کہتے ہیں اس سودے میں دس ہزا ز بیل مجھے نفع میں ملی۔اور اگرہ میں اس وقت فروخت نہ کرتا، تو خدا جانے کب کا مک پیدا ہوتا۔اور اتنے عرصہ میں کتنا کھا جاتے لیکن اس وقت بغیر کسی خرچ کے ڈھائی ہزار کا نفع ہوا، چونکہ انکو تجارت کا فن خوب آتا تھا۔اور اپنے کام میں بہت چست تھے اس لیے وہ مال میں بڑھ گئے۔اب کسی طرح ان کو کسی ایسے شخص کے برابر سمجھا جا سکتا تھا۔جونہ ان کی طرح ہوشیار تھا اور نہ اس فن سے پتی کیساتھ کام لے سکتا تھا۔یہ مساوات نہیں، کہ دولتمندی کے لحاظ سے سب کو مساوی سمجھا جائے، یہ تو ایک دھوکہ ہے اور غلطی ہے۔مساوات وہ ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت امراء نے دیکھائی۔اب لوگ جس چیز کو مساوات خیال کرتے ہیں یہ حسد ہوتا ہے۔متعدد احادیث میں آتا ہے کہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور کوئی بات کہنی چاہی۔آپ نے فرما دیا۔تمہارا امیر پیش ہو۔پس ان لوگوں کی مزعوم مساوات کہاں رہی۔اگر سب کی ایک ہی حیثیت تھی، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر کے پیش ہونے کا کیوں حکم فرمایا۔پھر فرمایا نماز کے لیے وہ آگے کھڑا ہو جو تم میں زیادہ متقی اور اعلم ہو۔اور اس طرح ایک کو خاص حیثیت دیدی۔پس اس کا نام مساوات نہیں ہے کہ مختلف مدارج اور مختلف حیثیتوں کے آدمیوں کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا جائے جولوگ مختلف علمی اور عملی مدارج رکھتے ہیں۔یا ان کو بعض خاص رسوخ حاصل ہیں۔ان کو کیسے ایک ہی طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔قرآن شریف میں آتا ہے کہ اگر تم کوئی بات سنو ، تو اس کو ان لوگوں کے پاس لے جاؤ جن کو استنباط کرنا آتا ہو۔اب دیکھو استنباط والے الگ ہیں۔مشورہ والے الگ۔اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہر ایک کام میں سب کو شریک ہونا چاہیئے۔وہ دراصل مساوات کا مطلب نہیں جانتا۔اور حسد کرتا ہے اور اپنے نفس کو دھوکہ دیتا ہے کہ حسد کو مساوات کے لباس میں چھپاتا ہے۔ایک امیر کو عمدہ کھانا کھلایا گیا۔دوسرا جلتا ہے کہ اسے بھی کیوں نہ ایسا کھانا ملا۔یہ مساوات نہیں بلکہ حسد ہے جس کو نیکی کا لباس پہنایا جاتا ہے جب اس کو مساوات کہا جاتا ہے۔امام شعرانی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک بیوی سے مزاحاً کہا کہ میں جب مرنے کے بعد بہشت میں جانے لگوں گا، تواپنی دوسری بیوی تیری سوکن کو ہمراہ لے جاؤں گا۔بیوی نے کہا۔کہ خدا کی قسم میں اس بہشت میں ہرگزہ داخل نہ ہوں گی۔اس بیوی نے جو یہ کہا۔یہ اس کے حسد کا نتیجہ تھا یہی حسد ہے جو بڑھتے بڑھتے انسانوں کو ہلاک کر ڈالتا ہے۔آج جو لوگ ہم سے جدا ہوتے ہیں۔وہ احمدی کہلاتے ہیں حضرت مسیح موعود کی کچھ نہ کچھ محبت دل میں رکھتے ہیں اور حضرت اقدس کی کتب کو چھاپتے ہیں۔اور کچھ نہ کچھ تبلیغ