خطبات محمود (جلد 6) — Page 294
۲۹۴ سلسلہ میں ایسا نہیں ہونا چاہیتے، بلکہ یہاں تو سب کو ایک ہی درجہ میں ہونا چاہیتے ۔ یہ بات حضرت اقدس کے سامنے بھی پیش کی گئی ۔ آپ نے فرمایا۔ ہم تو خدا کے فعل کے متبع ہیں۔ دیکھو خدانے کسی کو امیر بنایا ہے اور کسی ب کے کو غریب کسی کے گھر میں قسم قسم کے کھانے ہوتے ہیں۔ اور کسی کے ہاں مشکل سے دال روٹی ۔ اب کے قسائم ل جبکہ خُدا نے تقسیم کی ہے تو ہم کیس اس تقسیم کے خلاف سب سے سے ایک ہی قسم کا معاملہ کریں جس کو گھر میں عمدہ کھانا ملتا ہے ۔ اس کو عمدہ نہ دینا اس پر ظلم کرنا ہے کیونکہ وہ معمولی کھانے کا عادی نہیں ہوتا۔ تو یہ مساوات کا غلط مطلب ہے۔ جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ خدا نے اسلام میں جو مساوات رکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے که خواه بادشاہ نماز پڑھے یا غریب سب کو ایک سا اجر ملے گا۔ خُدا کے ہاں یہ نہیں کہ اگر ایک امیر نمازہ یا روزہ کا عمل بجالاتے۔ تو اس کو اس سے زیادہ اجر ملے گا۔ جو ایک غریب و فقیر کو ان اعمال کا اجر ملیگا۔ باقی رہی۔ دولت و ثروت یہ نتیجہ ہے ۔ اس کی یا اس کے آباء کی محنت کا۔ اس میں مساوات کیسے ہو سکتی ہے۔ سول کریم صلی الہ عیہ سل کے پاس فریاد آتے اور کہا حضور ہمارے بھائی امیر کیوں میں ہم سے بڑھے ہوتے ہیں۔ نمازہ ہم پڑھتے ہیں۔ وہ بھی پڑھتے ہیں۔ روزہ ہم رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں۔ وہ بھی جاتے ہیں۔ وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ ہم اس سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا ۔ کہ میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں کہ اگر تم وہ کرو گے، تو امراء سے تم نیکیوں میں بڑھ جاؤ گے اور وہ بات یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد ۳۳ دفعہ تحمید ۳۳ دفعہ تقدیس اور ۳۲ دفعہ تکبیر کہا کرو اللہ تعالی تمہیں ان سے بڑھا دیگا، چند دن کے بعد غربا ۔ پھر آتے کہ حضور، امیر تو یہ کام بھی کرنے لگ گئے ۔ ہم کیا کریں آپ نے فرمایا کہ خدا جس کو فضیلت دیتا ہے میں کسی طرح اس کو روک سکتا ہوں ۔ وہ دولتمند مسلمان ایسے مسلمان نہ تھے۔ کہ فرائض کو بھی ترک کر دیں ۔ وہ تو نوافل میں اسقدر جد و جہد کرتے تھے۔ کہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ پھر ان کی دولت مندی برائے نام نہ تھی، بلکہ کافی دولت رکھتے تھے۔ ایک صحابی جن کے متعلق صحابہ کا خیال تھا کہ غریب ہیں۔ جب فوت ہوئے، تو ان کے پاس ڈھائی کروڑ روپیہ کی جائیداد ثابت ہوئی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں صحابہ کو تجارت کا بھی خاص ملکہ تھا، چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اس فن میں کامل تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ دس ہزار اونٹ خریدے۔ اور اصل قیمت پر ہی فروخت کر دیئے ۔ ایک دوست نے کہا کہ اس میں آپ کو کیا نفع ہوا ۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اسی وقت کھڑے کھڑے ڈھائی ہزار روپیہ کا نفع ان اونٹوں کی خرید و فروخت میں حاصل ہوا ہے بخارى كتاب الصلوة باب الذكر بعد الصلواة