خطبات محمود (جلد 6) — Page 293
۲۹۳ سے اس خیال کو تسلیم کرتا۔ مگر اس رنگ میں سینکڑوں اس نجل کی تعلیم کو تسلیم کر کیے اس پر عمل شروع کم دیتے ہیں۔ یا اسی طرح اگر کوئی شخص کہے کہ عبادت میں کیا رکھا ہے اور ہماری تسبیح و تحمید سے خدا کا ہتے ہیں۔ اسی اگرکوئی کے میں اور کیا بنتا ہے۔ تو بہت کم لوگ اس کے قابو میں آئیں گے، لیکن اگر یوں کہا جاتے کہ اصل تو عباد غریب لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے ۔ جتنے عرصہ میں کوئی تسبیح پڑھتا ہے ۔ اتنے عرصہ میں ایک غریب کو مدد دینے میں بہت فائدہ پہنچا سکتا ہے تو نتیجہ یہ ہوگا۔ کہ لوگ اس خیال کو تسلیم کرلیں گے۔ اسی لیے تمام بدیاں نیکی کی شکل میں پیش کی جاتی ہیں۔ اور نادان ان پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح لوگ تمام عبادتیں تسبیح و تحمید حتی کہ نمازہ تک کو ترک کر دیتے ہیں۔ ہمارے ملک کا بڑا دنیاوی مصلح جس نے مسلمانوں کی مادی حالت بالکل بدل ڈالی ۔ اور جس کی ذاتی محنت اور کوشش اور بہت اور قربانی سے کئی نکھے کام کے اور سست چست ہو گئے۔ اور اس وقت جبکہ انگریزی زبان پڑھنے کو جہالت اور نادانی سے لوگ کفر سمجھتے تھے جس نے اس غلط خیال کو لوگوں کے دلوں سے نکالا ۔ وہ سید احمد خان ہے ۔ دنیاوی لحاظ سے اس میں شک نہیں کہ اس نے بڑا کام کیا۔ وہ قومی محبت دل میں رکھتا تھا ۔ ہاں مذہب کی محبت اس کے دل میں نہ تھی جس کو وہ قوم سمجھتا تھا۔ اس کے لیے اس نے نماز ترک کر دی ۔ اور کہہ دیا تھا کہ وہ وقت جوئیں نماز میں لگاوں گا۔ کیوں نہ قوم کی خدمت اور بھلائی میں صرف کروں جس سے قوم کا کام بنے ۔ پس شیطان نے اس کو بھی دھوکہ دیا ۔ اور اس کے دل میں ڈال دیا کہ تیری یہ کارروائیاں ہی نمازہ کی قائم مقام ہیں۔ شیطان بڑی ترکیب سے کام کرتا ہے۔ حسد کے بہت سے مدارج ہیں جن میں سے ایک مساوات کا خیال ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس خیال کی جو اصل ہے۔ اس کا پیدا کرنے والا اسلام ہے۔ کیونکہ اسلام کی تعلیم ہے کہ تمام بنی نوع آپس میں بھائی بھاتی ہیں۔ انسان ہونے کے لحاظ سے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ جب تک یہ خیال نہ ہو۔ ترقی نہیں ہو سکتی میگر جن کو خدا نے بڑائی دی ہو۔ ان کی تذلیل کے لیے کہ دینا کہ اسلام نے مساوات رکھی ہے ۔ ان کو ہم پر کوئی فضیلت نہیں ۔ ایک غلط خیال ہے۔ اور بہت لوگوں کو اس خیال نے تباہ کیا حضرت مسیح موعود نہیں۔ غلط اور تباہ موجود کے وقت میں بعض وہ لوگ جنھوں نے اس زمانہ کے صوفیوں کی حالت کو دیکھا تھا کہ وہاں غریب امیر کو ایک ہی قسم کا کھانا کھلایا جاتا ہے ۔ انہوں نے جب یہاں یہ بات ملاحظہ کی کر دی وسعت لوگوں کو ان کی حالت کے مناسب اور غرباء کو ان کے درجہ کے مطابق کھانا دیا جاتا ہے تو کہنے لگے کہ خدا کے