خطبات محمود (جلد 6) — Page 292
۲۹۲ حسد کے منے لوگ یہ سمجھتے ہیں۔ کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس مال ہو۔ اس کی نسبت دوسر کی خواہش تے اور اسے مل جائے، بیشک یہ حسد ہے، لیکن میں حسد نہیں ہے۔ بلکہ جس طرح ہو۔ کہ اس سے مال چھن جاتے اور اسے شیطان نے اور بدیوں کو مختلف رنگ دیتے ہوتے ہیں۔ اسی طرح حسد کو بھی کئی رنگوں میں پیش ۔ کرتا ہے۔ 2 شیطان کی عادت ہے ۔ راس جگہ شیطان سے میری مراد ابلیس نہیں۔ بلکہ شیطانی ارادوں والے آدمی اور وسواس ڈالنے والے لوگ ہیں کہ وہ بدی کو نیکی کے رنگ میں دکھایا کرتا ہے ۔ اس ذریعہ سے وہ بہت بڑے بڑے فساد ڈالتا ہے۔ بہت لوگ ہیں کہ اگر کوئی ان کو بری کے ذریعہ بدی پر لگائے۔ تو نہیں لگیں گے لیکن اگر نیکی کی صورت میں بدی پیش کی جائے تو وہ اس پر کاربند ہو جائیں گے۔ مثلاً ایک شخص کو کہا جائے کہ تم فلاں شخص کو قتل کر دو۔ تو وہ اس خیال سے نفرت کریگا ۔ اور اس خیال سے گھبراتے گا لیکن نیکی کی صورت میں جب یہ بات پیش کی جاتے کہ بڑا ثواب ہو گا ۔ یا اور کوئی مفید نتیجہ نکلے گا۔ تو لوگ قتل سے نہیں گھبراتے ۔ آجکل جو ٹھگوں کا بد نام گروہ ہے ۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ابتداء میں یہ ایک مذہبی گروہ تھا جو اس لیے لوگوںکو قتل کر دیا کرتا تھا کہ لوگ دنیا کے رنج وآلام سے چھوٹے جاتیں ۔ اور یہ لوگ سمجھتے تھے کہ اس طرح ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ احسان کرتے ہیں۔ تو یہ بغیر کسی لالی اور خواہش اور بغض و حقد کے قتل کے مرتکب ہوتے تھے۔ ان کا قاعدہ تھا کہ مسافر را ستہ میں چلا جاتا ہو۔ اس کے گلے میں پھانسی ڈالکر مار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ مصیبت میں تھا ۔ ہم نے اس کو بچا لیا سوہ اس کو ایک ثواب کا کام خیال کرتے تھے ۔ اب یہ گروہ ایک لیٹروں کا گروہ ہو گیا ہے ۔ ورنہ یہ ایک مذہبی جماعت تھی جس کے سامنے لوگوں کو قتل کرنا برائی کے رنگ میں پیش نہ ہوا ۔ بلکہ اس صورت میں پیش ہوا کہ لوگ دنیا میں رہ کر دُکھ اُٹھاتے تھے۔ اس لیے ان کو دکھوں سے نجات دینے کے لیے ان کو قتل کر دنیا چاہیئے۔ اور یہ ان پر احسان ہوگا محکم نہ ہوگا۔ یہ دھوکہ تھا۔ جو شیطان نے ان کو نیکی کے رنگ میں دیا۔ بہ پس شیطان کبھی بدی کی تعلیم کو نیک پیرائے میں پیش کرتا ہے اور بدی کوئیکی کا لباس پہنا کرلوگوں کی ہمدردی حاصل کرتا ہے۔ مثلاً کہیں صدقہ کا سوال ہوتا ہے۔ اب اس کے مقابلہ میں اگر لوگوں کو نجل کی تعلیم دی جائے تو وہ اس پر کان نہیں دھر سکتے، مگر یورپین رنگ دیگر اسی خیال کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اگر اس طرح صدقہ و خیرات کی جائے تو ملک کا ایک بڑا حصہ نکما ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب ان کو خیرات ملنے لگتی ہے۔ تو وہ محنت چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس لیے جو لوگ خیرات کرتے ہیں ۔ وہ نیک کام کرنے کی ہم بجائے ملک سے دشمنی کرتے ہیں۔ اب اگر کھلے لفظوں میں بخل کی تعلیم دی جاتی۔ تو ایک آور شخص بھی مشکل