خطبات محمود (جلد 6) — Page 272
۲۷۲ وقت لیکن یہ نادانی کی بات ہے۔ بیشک گھسنا دردسر ہے مگر جس دردسر کے لیے صندل کا لگانا مفید ہے اس کے کے لیے اگر گھنے اور لگانے کا درد برداشت نہ کیا گیا تو وہ بہت بڑھ جائیگا۔ اور پھر بہت تکلیف کا موجب ہو گا۔ اسی طرح بے شک علم پڑھنا تکلیف کا باعث ہوتا ہے، لیکن نہ پڑھنا ساری زندگی کی تکلیف کا موجب بنتا ہے۔ تو اس میں شک نہیں کہ نماز روزہ زکواۃ - حج اور دوسرے دین کے احکام پر عمل کرکے پورا مسلمان بننا مشکل ہے۔ کیونکہ بہت دفعہ عزت مال اور رشتہ دار راستہ میں روگ بن جاتے ہیں۔ بہت دفعہ خیالی غیرت روگ بن جاتی ہے۔ اور بہت دفعہ نفسانی خیالات اور خواہشات روک بن جاتی ہیں۔ مگر باوجود اس کے پورا را مسلمان بننے سے ثمرات نے سے ثمرات ملتے ہیں۔ وہ چونکہ بہت بڑے ہیں۔ اس لیے کوئی عقلمند یہ نہیں کہ سکتا کہ دینی احکام کو بجالانے کی تکلیف برداشت نہیں ہو سکتی، لیکن چونکہ دنیا میں دس پندرہ سال محنت ت کر کر کے کے علمہ علم حاصل کرنے کے بعد فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اور مذہب کے متعلق جیسا کہ با کہ میں نے بتایا ہے جب تک جان میں جان ہو۔ اس وق تک محنت اُٹھانا پڑتی ہے۔ ہے ۔ اس لیے بہت لوگ اس محنت کو برداشت کرنے سے گھر کرنے سے گھبرا جاتے ہیں۔ ابھی جو بہت بڑی جنگ ختم ہوتی ہے ۔ اس میں جو طاقتیں لڑرہی تھیں۔ انہوں نے اپنے نوجوانوں کو اس لڑائی کی بھٹی میں پھینک دیا ۔ اپنے بوڑھے تجربہ کار لوگوں کو اس میں ڈال دیا۔ اپنے ملک کی پیدا واروں - صنعت و حرفت - تجارت اور زراعت غرض جو کچھ کسی کے پاس تھا ۔ اسی کو اس آگ میں ڈالدیا گیا۔ اور کسی چیز کی قربانی کرنے سے دریغ نہ کیا گیا۔ مگر ان لڑنے والی طاقتوں میں سے ہر ایک کا یہی قول ہوتا تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں لڑائی ختم ہو جائیگی اور زیادہ سے زیادہ سات سال کا اندازہ لگایا جاتا تھا تو چونکہ ان کے سامنے تھوڑا عرصہ تھا جس میں انہیں محنت کرنا تھی اس لیے سخت سے سخت محنت بھی انہوں نے برداشت کی ۔ تاکہ اس تھوڑے عرصہ کی محنت کا فائده بہت دیر تک اُٹھا سکیں۔ ان ممالک کے بڑے بڑے آدمی جب نوجوانوں کو خدمت کے لیے بلاتے تو کہتے کہ یہ چند روزہ بات ہے۔ پھر آرام حاصل ہو جائے گا ۔ اس سے ان کے جوش بڑھتے ور وہ پورے زور سے کام کرتے ہیں، لیکن جن لوگوں کو اسلام کی خدمت کے کو اسلام کی خدمت کے لیے بلایا جاتا ہے ان کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چند دن کے بعد تمہارا کام ختم ہو جاتے گا۔ اگر یہ کہا جائے۔ تو یہ ایک ھو کہ اور فریب ہے۔ کیونکہ دین کے کام موت کی گھڑی تک چھتے ہیں۔ پس جو شخص تمہیں یہ کہے کہ دین کی خدمت چند سال چند سال تک کرنی پڑے گی اور پھر اس سے آزادی حاصل ہو جائیگی ۔ وہ جھوٹ کہتا ہے جو کچھ۔ یہ موت تک کھیلتے ہے۔ اگر نماز چھ سال پڑھنے کے بعد معاف ہو سکتی ہے۔ اگر روزے یہ بوجھ ہے یا جو کچھ۔