خطبات محمود (جلد 6) — Page 271
۲۷۱ الشر اسی طرح ہوتا رہا ہے۔ کہ ابتدا میں نبیوں اور ماموروں کے ماننے والے دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالے گئے اور اس کے بعد انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ تو ان ابتلاؤں کی بات ہے، جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے۔ مگر ان کے علاوہ اور بھی ابتلاء ہیں۔ جو بندہ خدا کے حکم کے ماتحت خود اپنے او پر وارد کرتا ہے مثلاً نماز روزه - زکوة - حج - صدقہ - اخلاق فاضلہ اور دیگر تمدن و معاشرت کے متعلق احکام کی پابندی۔ یہ بھی ایک قسم کے ابتداء ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان فطرتاً آرام کی خواہش کرتا ہے، لیکن ان باتوں کے لیے اُسے کچھ نہ کچھ محنت اور تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اَحَسِبَ النَّاسُ والی آیت میں جن ابتلاؤں کا ذکر ہے۔ وہ تو کچھ مدت کے لیے ہوتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اسی آیت میں بتا دیا ہے کہ اسی وقت تک ہوتے ہیں۔ جب تک انسان کا تجربہ اور آزمائش نہ ہولے۔ جب ہو جائے تو پھر ان سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ مال و دولت حکومتیں اور بادشاہتیں ۔ رشتہ دار اور تعلق دار سب مل جاتے ہیں۔ اور پہلے سے بہت زیادہ مل جاتے ہیں۔ مگر یہ ابتلاء جو انسان خود اپنے نفس پر وارد کرتا ہے۔ یہ ہمیشہ اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ اور اس وقت تک کہ روح جسم سے نکل نہیں جاتی ساتھ ہی رہتے ہیں، لیکن ان کی وجہ سے کوئی نہیں کہ سکتا کہ علم کے حاصل کرنے کیلئے رات کو پڑھنے والا دکھ اور تکلیف میں پڑا ہوا ہے کیونکہ پڑھنے کی تکلیف اُٹھانے کا زمانہ اس زمانہ کے مقابلہ میں تھوڑا ہوتا ہے جس میں علم سے آرام حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح وہ زندگی جس میں آرام پانے کی خاطر انسان اپنے او پر ابتلاء وارد کرتا ہے۔ چونکہ دنیا کی زندگی کے مقابلہ میں بہت بڑی ہوتی ہے اس لیے اس کے لیے کوئی محنت برداشت کرنا اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنا نہیں ہوتا۔ پھر جس طرح حاصل کرنے والے کو کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ بیوقوف ہے۔ آرام کرنے کی بجائے راتوں کو جاگتا اور محنت کرتا ہے۔ اسی طرح یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خدا کے فضل اور رحمت کو ڈھونڈھنے والا نادان ہے کہ کسی قسم کے ابتلا۔ اپنے اوپر ڈال لیتا ہے۔ کیونکہ جونسبت علم حاصل کرنے کے زمانہ کو آرام اور فائدہ حاصل کرنے کے زمانہ سے ہے۔ اس سے بہت زیادہ اس زمانہ کو جو انسان اس دنیا میں گذارتا ہے۔ اس زندگی سے۔ سے ہے جو آئندہ ملنے وا بندہ ملنے والی ہے۔ کیا بلحاظ عزت اور مرتبہ اور فائدہ کے اور کیا بلحاظ عرصہ اور مدت کے وہ زندگی اس قدر بڑھی ہوتی ہے کہ دنیا کی زندگی اس کا کچھ مقابلہ ہی نہیں کر سکتی ۔ پس نادان ہے وہ شخص جو یہ کہے کہ آئندہ کی زندگی حاصل کرنے کے لیے کون ان ابتلاؤں میں پڑے اور مصیبت اُٹھاتے کسی اتنے کسی نے کیا ہے ۔ a دردسر کے واسطے صندل لگانا ہے مفید اُس کا گھنا اور لگانا درد سر یہ بھی تو ہے