خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 262

۲۶۲ (49) نماز با جماعت کی تاکید ) فرموده دار جولائی شامله ) ( تشتد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں : 1 الْمَهُ ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ هُ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ۔ " اور فرمایا :- رسورة البقرة : ٢ تا ٤ ) ایک زمانہ دنیا کے اوپر ایسا تاریکی و حکمت کا آیا کہ اس کی نسبت اللہ تعالی قرآن مجیدمیں فرماتا ہے ظَهَرَ الفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالبَحْرِ (الروم : ٢٢) کر خشکی اور سمندر میں فساد پھیل گیا تھا ۔ ایک خدا کی پرستش کرنے والا کوئی انسان نہیں مل سکتا تھا، شرک و بت پرستی اور قسم قسم کے تو ہمات پھیلے ہوئے مل سکتا تھا، شرک و بت اور سم کے تھے۔ جب تاریخی اس قدر حد سے بڑھ گئی ۔ اور جبہ بڑھ گئی ۔ اور جب دین بالکل ذلیل اور بے قدر ہو گیا ، اور خد ہوگیا ، کی کوئی عظمت لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہی۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور کرم سے مکہ میں ایک دیا روشن کیا، جس کی شعاعیں بڑھتے بڑھتے اتنی بلند و بالا ہوگئیں کہ آخر ان کے ذریعہ تمام دنیا روشن ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل اور ایسا احسان تھا کہ اگر دنیا اس کی قدر کرتی، تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعث کے بعد شاید گھر کا نشان تک باقی نہ رہ جاتا ۔ اور اگر اس سے فائدہ اٹھاتی تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کسی اور مامور اور نبی کی ضرورت نہ رہ بہتی، کیونکہ نبی اور مامور کے آنے کی دو ہی وجہیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اہلِ دنیا کو شریعت پہنچانا ۔ اور دوسری یہ کہ شریعت پر عمل کرانا ۔ اب جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کامل شریعیت مل چکی تھی۔ اگر دنیا اس کی قدر کرتی تو قیامت تک کوئی تفرقہ نہ ہوتا ہیں افسوس لوگوں نے خدا تعالیٰ کی اس رحمت اور فضل کی قدر نہ کی۔ اور مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے ۔ اور وہ اسلام جو رحمت کے طور پر آیا تھا ۔ اس کو انہوں نے بھلا دیا ۔ اور نہ صرف بھلا ہی دیا ۔ بلکہ اس سے نفرت