خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 258

۲۵۸ 48 کے انہی کی مخالفت مو جب ہلاک ھے ۱۹ ) فرموده ۴ جولائی شاه ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ہوتا ہے اور اس ( اللہ تعالیٰ کی یہ سنت قدیم سے چلی آتی ہے کہ وہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے مامور دنیا میں بھیجتا رہتا ہے جب بھی زمانہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے۔ (زمانہ سے میری مراد اس زمانہ کے لوگ ہیں، تو وہ اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو اس زمانہ کے لیے چنتا اور حکم دیتا ہے کہ دنیا کی اصلاح کے لیے کھڑا ہو جا۔ چونکہ وہ خدا کے حکم سے کھڑا ہوتا ہے ۔ اس کے دیتے ہوتے نام کے ساتھ کھڑا ، اور اس کے بتائے تے ہوئے ہوئے مقام۔ مقام پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کی بات کو خدا اپنی بات اورا اس کے کام کو خدا اپنا کام قرار دیتا ہے۔ اور جو اس کے مقابلہ میں آتے ہیں۔ وہ تباہ و برباد درسوا اور ذلیل ہوتے ہیں کبھی نہیں ہوا کہ خدا کا نام لیکہ ایک راستبانہ کھڑا ہوا ہو۔ اور پھر دنیا نے اس کو نا کام دیکھا ہو۔ وہ ہمیشہ کامیاب باب ہی ہوتے ہیں۔ اور ان کے دشمن ہمیشہ ہی ناکام و نامرادی کا منہ دیکھتے ہیں ۔ نادان ان کی ظاہری غربت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا کیا کر سکتے ہیں۔ ان کی نظر ان کے چہرہ پر ہوتی ہے۔ مگر اس کے چہرہ کو نہیں دیکھتے جو ان میں مخفی ہوتا ہے ۔ لوگ ان کے ہاتھ کو دیکھتے ہیں مگر اس کے ہاتھ کو نہیں دیکھتے۔ جس کی مارہ کی برداشت دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا ۔ وجہ یہ کہ چونکہ نبیوں کے مخالف ظاہر پرست ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی نظر ظاہر پیر ہی پڑتی ہے ۔ حالانکہ ان کی ہلاکت و بربادی کے سامان باطن میں کئے گئے ہوتے ہیں ۔ ان کی مثال اس شہر کے باشندوں کی طرح ہوتی ہے۔ جو ایک ایسے آتش فشاں پہاڑ پر رہتے ہوں جس کے ارد گرد سبزہ زار ہو۔ زمین ہری بھری ہو۔ گلیاں اور ان کی گزر گاہیں شاداب ہوں ۔ جنگلوں میں میں شادانی نظر آتی ہو ۔ پانی کے چشمہ بہہ رہے ہوں ۔ حالانکہ ان کی گلیوں ۔ ان کے مکانوں ۔ اور ان کے جنگلوں اور چشموں کے نیچے ان کی تباہیوں کے سامان ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اور جب وہ سامان یت