خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 255

۲۵۵ کی اجازت دی ہوتی ہے اُس نے مجھے اب حکم دیا تھا کہ کسی کو اندر نہ آنے دوں ۔ بادشاہ نے شہزادے کو کہا کہ تمہیں اس نے کہا تھا کہ میں بادشاہ کے حکم سے روکتا ہوں ۔ اس نے کہا۔ ہاں ! بادشاہ نے کہا۔ پھر تم کیوں نہ رکے اس نے کہا مجھے ہر وقت اندر آنے کی اجازت ہے ۔ بادشاہ نے کہا بیشک تمہیں عام حالتوں میں اندر آنے کی اجازت ہے ، لیکن اب جب میں نے خاص طور پر روکا تھا تو پھر تم کیوں نہ کر کے ۔ اس کے بعد بادشاہ نے ٹالسٹاتے کو کہا ، ٹالسٹاتے اس نے تمہیں اس لیے مارا ہے کہ تم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی۔ اچھا اب تم اسی کوڑے سے اسے مارو۔ شہزادے نے کہا کہ میں فوج میں فلاں عہدہ رکھتا ہوں ، قاعدہ کے مطابق اس عہدے والے کو ایک سپاہی نہیں مار سکتا ۔ ہم مرتبہ ہی مزا دے سکتا ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ ٹالٹاتے ہیں تمہیں وہی عہدہ دیتا ہوں ۔ جو اس کو حاصل ہے ۔ پھر شہزادے نے کہا کہ یہاں کے شہزادوں کو کوئی اس وقت تک سزا نہیں دے سکتا جب تک کہ خود نواب نہ ہو۔ زار نے کہا میں زار روس ٹالسٹاتے دربان کو آج کونٹ بناتا ہوں ۔ سوٹا لٹاتے اب مارو۔ پھر اس نے اُسے اُسی کوڑے سے مارا ۔ اس طرح وہ دربان سے نواب بن گیا ۔ اور اس کے رسنہ میں شہزادہ کو مزا دینے کے لیے جو روکیں حائل تھیں وہ ہٹا دی گئیں۔ کیونکہ اس نے اپنے بادشاہ کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کی۔ اسی طرح خدا کیلئے جو فرمانبرداری اختیار کرتا ہے اس کے رستہ میں اگر روکیں بھی ہوں تو خدا وہ تمام روئیں دور کر دیتا ہے اور اگر کسی مدعا کے حصول کے لیے دولت کی ضرورت ہو تو وہ دولت دے دیتا ہے۔ اگر زمین کی ضرورت ہو تو زمین دے دیتا ہے۔ اگر مال عزت اور رتبہ کی ضرورت ہو تو یہ عطا کر دیتا ہے۔ اور اگر دینی ضروریات میں ولی بنانے کی ضرورت ہو۔ تو ولی بنا دیتا ہے ۔ اگر صدیق بنانے کی ضرورت ہو تو صدیق بنا دیتا ہے ۔ اگر شہیدوں میں سے بنانے کی ضرورت ہو تو شہید بنا دیتا ہے ۔ اور سب سے آخر اگر نبی بنانے کی ضرورت ہو تو نبی بھی بنا دیتا ہے۔ کیونکہ نبی خدا ہی بنایا کرتا ہے۔ تو جس قدر بھی نقائص انسان میں ہوں۔ خدا اپنے فضل اور رحمت سے ان سب کو دور کر دیتا ہے لیس ہر وقت اور ہر گھڑی خدا پر بھروسہ ہونا چاہتے ۔ اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس اور باطن نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ خدا وہ تمام سامان پیدا کر دیا ہے۔ جو انسان کی ترقی اور کامیابی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اور وہ خدا جو انعام دیتا ہے ۔ وہی ان کے حصول کے سامان بھی عنایت کرتا ہے۔ یہ تو دانی طور پر تا جہانی طور پربھی یہی بات ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سامان رھے ہیں جنکو ہم نہیں جانتے ، لیکن یہ جانتے ہیں کہ اگر مایوسی ہو۔ تو انسان کامیاب نہیں ہوتا ۔ اور اگر مایوس نہ ہو تو ایسے سا ہیں کہ ہوتا۔ اور اگر نہ ہوتو سامان پیدا ہو جاتے ہیں یا انسان کے جسم میں ہی اس قسم کے تغیرات رونما ہو جاتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس