خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 251

۲۵۱ خواہ کتنی ہی بڑی مصیبت ہو۔ اس میں میری رحمت سے بھی مایوس نہ ہو۔ کیونکہ جو خدا کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ وہ یہ کہ جس طرح ایک شخص پر اگر کوئی ادنی سا احسان کرہے اور وہ اس کی قدر نہ کرے۔ تو پھر اس پر اس شخص کی طرف سے احسان نہیں کیا جاتا ، لیکن جب کوئی شخص خدا کے اتنے بڑے بڑے احسانات کے ہوتے ہوتے یہ کہے کہ اس نے مجھ پر کوئی احسان کیا ہی نہیں یا اب نہیں کرے گا۔ تو خدا ایسے شخص سے اپنے انعامات کو روک لیتا ہے۔ ہاں عام احسان تو اس کے ہوتے ہی رہتے ہیں۔ یہاں انعام رو کے جانے سے وہ انعام مراد ہیں۔ جو خاص ہوتے ہیں کیونکہ عام احسان اس کی رحمت عامہ کا نتیجہ ہوتے ہیں مگر جو خاص انعام ہوتے ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ روک دیتا ہے۔ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے ۔ اس میں حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ اسے میرے بیٹو! خدا کی رحمت سے نا امید اور مایوس نہ ہو کیونکہ خدا کی رحمت سے مایوس کافر ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مایوس کافر ہوا کرتا ہے۔ اور مومن کا کسی حالت میں بھی مایوس ہونا ممکن ہیں ۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص مومن ہو اور خدا کی رحمت سے مایوس ہو جائے ۔ در حقیقت مایوسی ایسی خطرناک مرض ہے کہ مایوس ہونے والے دین و دنیا دونوں میں ناکام رہتے ہیں ، لیکن جو مایوس نہ ہوں ۔ ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جس سال میں نے امتحان (انٹرنیں ، دیا تھا ۔ اسی سال ایک ہندو نے بی۔ اے کا امتحان دیا تھا۔ اور اس کا بیٹا بھی اسی سال بی۔ اے کے امتحان میں شامل ہوا ۔ اور اس شخص نے متواتر چھ سال یک امتحان دیا ، مگر ناکام ہوا ۔ آخر ساتویں سال کامیاب ہو گیا ، ان سات سالوں میں ایک دفعہ بھی وہ مایوس نہیں ہوا۔ یہ تو دنیاوی طور پر مایوس نہ ہونے نہ ہونے کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح ایک بزرگ کا قصہ لکھا ہے کہ انہوں نے بیس برس تک دُعا کی اور نتیجہ کچھ نہ سمجھ نہ ہوا۔ ان کا ایک مرید آیا اور ان کے پاس ٹھہرا۔ رات کو جب حسب معمول انہوں نے دعا کی۔ تو جواب ملا کہ تیری دعا منظور نہیں ہو سکتی ۔ مرید نے بھی اس آواز کوسن لیا ۔ اور بہت حیران ہوا لیکن ادب سے خاموش ا دوسرے دن پھرانہوں نے مال اور جوا بل کہ تو خواہ کچھ کرے تیری مان و نیں ہوتی مرد دوسرے شکر اور بھی بران ہوا، لیکن پھر بھی ادب کے باعث خاموش رہا۔ تیسرے دن پھر ان بزرگ نے دعا کی۔ اور وہی جواب ے ملا ۔ اب تو وہ مرید خاموش نہ رہ سکا جی میں تو کہا ۔ ہم توان کو بزرگ مانتے تھے، لیکن اب معلوم ہوا کہ ۔ تو خدا کی درگاہ میں ان کی کچھ قدر نہیں ہے ۔ اور اس نے ان سے کہا کہ میں تین دن سے سن رہا ہوں ۔ آپ کو کسی جواب ملتا ہے کہ تمہاری دعا قبول نہیں ہوسکتی ۔ پھر آپ کیوں دعا مانگتے ہیں۔ پہلے دن آپ