خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 246

کے لیے اکساتے۔پس جب بندہ گداز ہو جاتا ہے۔اس کا دن اُس کے لیے قبولیت کی گھڑیوں والی رات ہو جاتا ہے اور پھر اس کی ہر ایک رات لیلتہ القدر ہو جاتی ہے اس کا ہر ایک دن جمعہ کا دن ہوتا ہے اور ساعت خطبہ کی وہ درمیانی ساعت ہو جاتی ہے جس میں اللہ تعالی زیادہ دعائیں قبول کرتا ہے۔تو یہ جو کچھ کیا گیا ہے۔یہ انسان کو ہوشیار کرنے کے لیے ہے کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ خاص وقت میں فرض کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے۔پس دعا کا خاص وقت میں زیادہ قبول کر نارحم اور شفقت سے کیا گیا ہے۔ورنہ اس کے رحم کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔مگر بہت ہوتے ہیں جو اس فضل کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔باقی دنوں میں تو اس لیے فائدہ نہیں اُٹھاتے کہ وہ رمضان نہیں اور رمضان میں اس لیے کہ توفیق نہیں ملتی۔اسی طرح اور دنوں میں تو اس لیے دُعا نہیں کرتے کہ جمعہ نہیں۔اور جمعہ کو اس لیے کھو دیتے ہیں کہ ان کو دُعا سے مس نہیں۔پھر دن کو اس لیے کھوتے ہیں۔کہ راتیں قبولیت دعا کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔اور رات سے اس لیے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے کہ نیند کو نہیں چھوڑ سکتے۔غرض ایک وقت کو دوسرے پڑا تے ہیں اور دوسرے میں اس لیے کچھ حاصل نہیں کر سکتے کہ محنت سے جی چراتے ہیں۔اس لیے ان پر کوئی وقت دعا کا نہیں آتا۔ان کی مثال بعینہ اس بچہ کی سی ہوتی ہے جو ماں باپ سے ناراض ہو کر ایک اندھیرے مکان میں جاکر بیٹھ جائے، اور وہاں اس کو کانٹے چٹھنے اور بھڑیں کاٹنے لگیں۔ایسا انسان خدا سے ناراضگی اختیار کرتا ہے اور اس سے بھاگتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے ملک سے نکل جائے، مگر کہاں انسان اس کے ملک سے نکل سکتا ہے جس نے نادانی سے خدا کو چھوڑا اس کے لیے دنیا و آخرت میں کوئی مقام آرام کا نہیں۔ایسا شخص اپنا آپ قاتل ہے اور اپنے آپ کا خود خون کرتا ہے۔کیونکہ انسان کے لیے ایک ہی آرام کی جگہ ہے اور وہ خدا کی گود ہے۔اور یاد رکھو کہ خدا کی گو حضرت محمد صلی الہ علیہ وسلم کے لیے۔صرف موسی علی علیم اسلام کے لیے ہی نہیں بلکہ خدا ہر گنگا کے کے لیے اپنی گود پھیلائے کھڑا ہے کہ آئے اور اس کی گود میں جگہ پائے محمد صلی الہ علیہ والہ وکم فرماتے ہیں کہ خدا کو ایک بندہ کے تاب ہونے پر اتنی خوشی ہوتی ہے کہ ایک ماں کو اپناگم شدہ بچہ پانے پربھی آن خوشی نہیں ہو سکتی۔پس اس کی رحمت سے فائدہ اُٹھاو جو تمہاری ترقی کے لیے۔تمہارے فائدہ کے لیے وہ نازل کر رہا ہے۔اور پھر ان خاص اوقات سے فائدہ اُٹھاؤ جو تمہارے ہی فائدہ کے لیے اس نے رکھ دیتے ہیں اگر ان اوقات کو بھی سستی سے ضائع کر دو گے تو نہایت ہی افسوس کی بات ہوگی۔