خطبات محمود (جلد 6) — Page 246
٢٤٦ کے لیے اکساتے پس جب بندہ گداز ہو جاتا ہے۔ اس کا دن اس کے لیے قبولیت کی گھڑیوں والی رات ہو جاتا ہے اور پھر اس کی ہر ایک رات لیلتہ القدر ہوجاتی ہے اس کا ہر ایک دن جمعہ کا دن ہوتا ہے اور ساعت خط خطبہ کی وہ درمیانی ساعت ہو جاتی ہے جس میں اللہ تعالی زیادہ دعائیں قبول کرتا ہے ۔ تو یہ جو کچھ کیا گیا ہے۔ یہ انسان کو ہوشیار کرنے کے لیے ہے کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ خاص وقت میں فرض کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے۔ پس دعا کا خاص وقت میں زیادہ قبول کر نا ہم اور شفقت سے کیا گیا ہے ۔ ورنہ اس کے رحم کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں مگر بہت ہوتے ہیں جو اس فضل کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ باقی دنوں میں تو اس لیے فائدہ نہیں اُٹھاتے کہ وہ رمضان نہیں اور رمضان میں اس لیے کہ توفیق نہیں ملتی ۔ اسی طرح اور دنوں میں تو اس لیے دعا نہیں کرتے کہ جمعہ نہیں ۔ اور جمعہ کو اس لیے کھو دیتے ہیں کہ ان کو دعا سے مس نہیں، پھر دن کو اس لیے کھوتے ہیں کہ راتیں قبولیت دکھا کے لیے زیادہ موزوں ہیں ار را سے اس لیے فائد نہیں ہٹاسکتے کہ یہ کونہیں چھوڑ سکتے فرض ایک وقت کو دوسرے پڑھا لتے ہیں اور دوسرے میں اس لیے کچھ حاصل نہیں کر سکتے کی ر سکتے کہ محنت سے جی چراتے ہیں ۔ اس لیے ان پر کوئی وقت دعا کا نہیں آتا۔ ان کی مثال بعینہ اس بچہ کی سی ہوتی ہے۔ جو ماں باپ سے ناراض ہو کہ ایک اندھیرے مکان میں جا کر بیٹھ جاتے اور وہاں اس کو کانٹے چھنے اور بھڑیں کا ممنے ر وہاں کو کانٹے گیں، ایسا انسان دا سے ناراضگی اختیار کرتا ہے اوراس سے بھاگتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے ملک سے نکل جاتے، مگر کہاں انسان اس کے ملک سے نکل سکتا ہے جس نے نادانی سے خدا کو چھوڑا اس کے لیے دنیا و آخرت میں کوئی مقام آرام کا نہیں ۔ ایسا شخص اپنا آپ قاتل ہے اور اپنے آپ کا خود خون کرتا ہے ۔ کیونکہ انسان کے لیے ایک ہی آرام کی جگہ ہے اور وہ خدا کی گود ہے۔ اور یاد رکھو کہ خدا کی ود صرف محمد صل اللہ علیہ وسلم کے لیے صف موسی علی علیہ السلا کے لیے ہی نہیں۔ بلکہ خدا ہر نگار کے کے لیے اپنی گود پھیلائے کھڑا ہے کہ آئے اور اس کی گود میں جگہ پاتے محمد صل للہ علیہ والہ سلم فرماتے ہیں کہ خدا کو ایک بندہ کے تائب ہونے پر اتنی خوشی ہوتی ہے کہ ایک ماں کو اپناگم شدہ بچہ پانے پر بھی اتنی خوشی نہیں ہو سکتی ۔ ہے۔ پس اس کی رحمت سے فائدہ اٹھا وہ جو تمہاری ترقی کے لیے۔ تمہارے فائدہ کے لیے وہ نازل کر رہا اور پھر ان خاص اوقات سے فائدہ اُٹھاؤ جو تمہارے ہی فائدہ کے لیے اُس نے رکھ دیتے ہیں اگر ان اوقات کو بھی سستی سے ضائع کر دو گے تو نہایت ہی افسوس کی بات ہوگی ۔