خطبات محمود (جلد 6) — Page 244
46 قبولیت دعا کے خاص ایام بھی انعام الہی ہیں فرموده ۲۰ جوان ۱۹۱۹ حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ۔رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور خاص رحمتیں لیکر آتا ہے۔یوں تو اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے دروازے ہر وقت ہی گھلے رہتے ہیں۔اور جب کوئی انسان چاہیے اس وقت عید اور رمضان اور جمعہ آجاتے ہیں۔صرف دیر مانگنے میں ہوتی ہے ورنہ اس کی طرف سے دینے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندے کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ہاں بندہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیتا ہے اور اس کے دروازے کو چھوڑ گر دوسرے کے دروازہ پر چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ محتاج نہیں، لیکن وہ اپنے بندے کی ایسی جستجو کرتا ہے گویا کہ اس بندے پر ہی اس کی خدائی کا انحصار ہے اور بندہ محتاج ہے اور ایسا محتاج ہے کہ اس کا ایک لحظہ بھی ایسا نہیں کہ اگر خدا تعالیٰ اسکو چھوڑ دے تو آرام سے گزرے اور ہلاک نہ ہو جائے۔مگر بندہ خدا سے استغنا کرتا ہے کہ گویا اس کا محتاج ہی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک عورت کو دیکھا کہ وہ دوڑی ہوئی پھر رہی تھی اور جو بچہ اس کو نظر آتا اُسے اُٹھا کر گلے سے لگالیتی اور پیار کر کے چھوڑ دیتی تھی۔جاتے جاتے اس کو ایک بچہ مل گیا وہ اس کو لے کر بیٹھ گئی۔رسول کریم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا ، اس عورت کا بچہ گم ہوگیا تھا۔اس کو اپنا بچہ ملنے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی۔جتنی اللہ تعالے کو اپنے گم شدہ بندہ کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے لیے سو اس رحیم و کریم ہستی سے دُعا قبول کرانا مشکل نہیں۔ہر گھڑی رمضان کی ہی گھڑی ہوسکتی ہے۔اور ہراہ کو قبولیت کے لیے ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔اس کی طرف سے دیر نہیں اگر دیر ہے تو بندے کی طرف سے ہے، لیکن یہ بھی اس کے احسان ہی میں سے ہے کہ اس نے ایک خاص وقت رکھ دیا تاکہ وہ لوگ جو نے بخاری کتاب الادب باب رحمته الواد۔