خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 243

۲۴۳ دیکھ سکو گے جو مقدر ہیں۔ زید و بکر کی قربانی تمہارے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔ تمہارے لیے تمہاری اپنی ہی قربانی کام آنے والی ہے۔ اگر تم دوسروں کی قربانیوں پر خوش ہو گئے تو تمہاری مثال ایسی ہی ہو گی۔ جیسی کسی پنڈت کے متعلق مشہور ہے کہتے ہیں۔ ایک پنڈت جو ع کے بنانے کو فر قرار دیا تھا میں کے وقت دریا پر گیا۔ سردی کا موسم تھا اتنی تو جرات نہ ہوتی کہ دریا میں داخل ہو کر نہائے۔ ایک کنکر اُٹھا کر اور اس کو مخاطب کرکے کہنے لگا ۔ تو را شنان سومو را شنان یعنی تیرا نہا نا میرا نہانا ہی ہے یہ کہ کر کنکر دریا میں ڈال دیا ۔ راستہ میں ایک دوسرا پنڈت ملا۔ اس نے کہا بھئی کیسے نہاتے، اس نے ترکیب بتلاتی ۔ اس پنڈت نے اسے مخاطب کر کے کہ دیا کہ تو را شنان سومورا شنان اور واپس آگیا۔ پس سید عبد اللطیف اور عبد الرحمن خان کی قربانی کو اپنے لیے کافی نہ سمجھو کیسی کی نماز سے اپنی نماز ادا نہیں ہو سکتی جو کچھ ان سے ظاہر ہوا ۔ وہ ان کا کام تھا۔ تم اپنا فرض آپ اداکرنیکی کوشش کرو۔ اللہ تعالیے ہم سب کو توفیق عطا فرما دے کہ ہم ان قربانیوں کو ادا کریں۔ جن کی اس وقت اسلام کے لیے ضرورت ہے۔ اور ہمیں وہ دن نصیب کرے کہ ہم پوری ترقیاں دیکھیں اور اسلام اپنی اصلی شان میں آجائے؟ ( الفضل ۲۴ جون شااله )