خطبات محمود (جلد 6) — Page 232
سی شاخیں ہیں جن پر ٹل کرنے سے دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوسکتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت نے ان سے بہت فائدہ اُٹھایا ہے۔جماعت نے تو فائدہ اُٹھانا ہی تھا۔دوسروں نے بھی فائدہ اُٹھایا ہے۔چنانچہ ایک ہندو کے جو ولایت میں مقیم ہے اور اب دل سے مسلمان ہو چکا ہے خطوط آتے رہتے ہیں۔وہ ایک سیاسی وجہ سے قید ہوگیا تھا۔حال ہی میں اس نے لکھا ہے کہ میں اپنی رھائی کے لیے با قاعدہ ان اصول کو پڑھ کر دعا مانگتا رہا ہوں اور باوجود اس کے کہ دوسروں کی نسبت میرے حالات زیادہ مایوس کن تھے مگر میں آزاد ہو گیا ہوں۔اور دوسرے ابھی تک آزاد نہیں ہوتے پھر وہ لکھتا ہے کہ میں نے اپنے ایک انگریز دوست کو بھی وہ رسالہ پڑھنے کو دیا ہے اور اُس کو کہا ہے۔کہ تم اس کے مطابق دُعا کرو۔اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد دیدے گا۔پس دعا ایک بڑا حربہ ہے۔اس کے ذریعہ ناممکن باتیں مکن ہو جاتی ہیں۔ایک دفعہ ایک دوست نے خط لکھا۔اور التجا سے لکھا کہ آپ میرے رشتہ کے متعلق دعا کریں۔میں نے بہت کوشش کی ہے مگر کامیابی نہیں ہوئی۔بعض جگہ فیصلہ ہو ہو کر جواب مل گیا۔ان کا تعلق حضرت صاحب سے بھی تھا اور مجھ سے بھی۔بعض خاص اوقات ہوتے ہیں۔میں نے دُعا کی اور مجھے علم ہو گیا کہ یہ دعا قبول ہوگئی ہے۔اور میں نے ان کو لکھ دیا۔وہ بڑی عمر کے تھے۔اور صحت بھی اچھی نہیں رہتی تھی۔اُنھوں نے مجھے لکھا کہ خدا نے دعا کی قبولیت کا عجیب رنگ میں نمونہ دکھایا کہ ایک ایسی جگہ رشتہ ہو گیا ہے۔جہاں گمان بھی نہیں تھا۔اور ایسے گھر میں ہوا جو ان سے زیادہ آسودہ حال تھا۔اور اس طرح ہوا کہ لڑکی والے نے خود بلا کر کہا کہ میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔تو جہاں کوئی سامان نظر نہیں آتے۔وہاں دُعا کام دیتی ہے۔مگر اس بات کو وہی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس کی چاشنی چکھی ہے۔دراصل دعا ڈائنامیٹ سے زیادہ موثر اور ہم سے زیادہ کام کرنے والی ہے۔ڈائنامیٹ چند پتھروں کو اکھاڑ کر پھینک سکتا ہے، لیکن دُعا ساری دنیا کو ادھر سے اُدھر کر سکتی ہے۔دیکھو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی تھی جس نے سلطنتوں اور طاقتوں کو تہ و بالا کر ڈالا۔ہر ایک طاقت جو آپ کے مقابلہ کے لیے کھڑی ہوئی گرا دی گئی۔اسی طرح دُعا ترقی کے بڑے سے بڑے منار پر پہنچا سکتی ہے اور وہ کام کرتی ہے۔جو خیال میں بھی نہیں آسکتے۔میں نے دُعا کی طرف اپنی جماعت کو بہت دفعہ توجہ دلائی ہے اور اب پھر دلاتا ہوں کیونکہ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔اور یہ وہ مہینہ ہے جس کے ذکر کے دوران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُجیب