خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 231

مقابلہ نہیں کر سکتے ان بزرگ کے اس کہنے کا اس شخص پر ایسا اثر ہو کہ وہ کانپ گیا۔اور اس نے نہایت لجاجت سے کہا کہ نہ صرف یہ کہ میں رات کو ہی ان افعال سے باز رہونگا۔بلکہ میں آپ کے ہاتھ پران تمام گنا ہوں سے تو یہ کرتا ہوں۔اور اب ساری عمران سے باز رہونگا۔تو یہ سهام ایل ایسا حربہ ہیں کہ کوئی ان کا مقابہ نہیں کر سکتا۔حضرت موسی کے مقابلہ میں فرعون کی حالت دیکھیئے۔حضرت موسیٰ اس سے بات کرتے ہیں ، مگر وہ کہتا ہے۔تم ہمارے غلام۔اور تم ہماری روٹیوں کے پروردہ ہو تم ہمارے سامنے کیا بولتے ہو موٹی اس کو بجھاتے ہیں کہ خدا کا خوف کرو اور اس پر ایمان لاؤ لیکن وہ کہتا ہے کون خدا ہے۔میرے سوا کوئی پیدا ہی نہیں۔حضرت مونٹی کہتے ہیں۔اچھا اور نہیں تو میری قوم کو ہی میرے ساتھ بھیجد و۔وہ کہتا ہے۔ہم تمہیں قید میں ڈالیں گے۔اور تمہارے مردوں سے اینٹیں پچھوائیں گے اور ان سے ایندھن جمع کرائیں گے۔چنانچہ جو کہتا ہے۔وہ کرتا ہے لیکن جب ان کے ظلم سے حضرت موسی کے دل میں درد پیدا ہوا تو نہ فرعون رہا نہ اس کا خدائی کا دعویٰ رہا۔نہ وہ سلطنت رہی نہ وہ جلال و جبروت رہا۔اور حضرت موسٹی کے سہام الہیل نے وہ کام کیا کہ وہ ان کے مقابلہ میں عاجز ہو کر پکار اٹھا۔آمنتُ أنه GALANGUAGE GALANGANA امنت به نوا إِسْرَائِيلَ وَانَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (يونس: 91) میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں میگروہی جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمین میں سے ہوں، لیکن یہ ایمان اس وقت لایا جبکہ اس کے ایمان لانے کا وقت گذر چکا تھا۔اور اس کی توبہ قبول نہ ہو سکتی تھی۔اسی طرح رسول کریم کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں۔دشمن آپ کو بید دُکھ دیتا ہے۔ایذائیں پہنچاتا ، مگر آپ کی دُعا کے مقابلہ میں کوئی آکرکھڑا نہیں ہوتا۔ایک دفعہ آپ کو مکہ میں بہت دکھ دیا گیا۔مگر بیچ میں سے ہی ایک نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) بد دعا دیں گئے۔پھر آپ کے پاس آیا اور آکر کہا کہ بددعا نہ کرنا کیونکہ آخر یہ تیرے رشتہ دار ہی ہیں۔تو وہ سب کچھ کرتے تھے لیکن آپ کی دُعا کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔پس یہ وہ ہتھیار ہے جو گو سب کو ملا مگر اسلام کو نمایاں طور پر ملا ہے۔میں نے دعا کے متعلق ایک گذشتہ رمضان میں خطے کے تھے۔جن میں میں نے خدا کے فضل سے وہ اصول و قواعد تائے تھے کہ ان پر عمل کرنے سے دُعا قبول ہو سکتی ہے۔علاوہ ان اصول کے انہی کے ماتحت اور نہت له بخاری کتاب الاستسقاء باب اذا استشفع المشركون بالمسلمين عند القحط