خطبات محمود (جلد 6) — Page 226
43 برقت ترقی کیلئے کو شاں بہنا چاہیئے (فرموده ۳۰ مئی ۱۹۱۹مه) تشہیر و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا کہ : " میں بعض ضروری باتیں اس خطبہ جمعہ میں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا مگر چند روز سے بیمار ہونے کے اگلے جمعہ پر ملتوی کرتا ہوں اور آج میں آپ لوگوں کو اس بات پر متوجہ کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں ہماری جماعت کی ذمہ داریاں اور اس کے کام ایسی احتیاط اور ایسی فکر چاہتے ہیں کہ ان کو معمولی طور پر ایک سول کوشش کیسا تھ سرانجام دیا جاسکتا میں نے بارہا آپ لوگوں کو بتایا ہے اور اس کی کوشش کی ہے کہ آپ کو اس امر میں اپنا ہم خیال بناؤں کہ اس وقت جس کام کیلئے ہماری جماعت کھڑی ہوتی ہے وہ بہت بڑا اور اہم کام ہے۔اس لیے اس کام کے سرانجام دینے کے لیے عظیم الشان تیاری کی ضرورت ہے میں نہیں جانتا کہ میں کہاں تک اس امر میں کامیاب ہوا ہوں اور کسی حد تک جماعت اس بات میں میری ہم خیال ہوتی ہے، لیکن جہاں تک میں سمجھا ہوں۔وہ یہ ہے کہ و جماعت کا ایک حصہ سمجھ چکا۔اور جان چکا ہے کہ ہمیں اس وقت کن کن کاموں کی ضرورت ہے۔پھر بھی ایک حصہ ہے جو نہیں سمجھا اور جو سمجھا ہے اس سے عمل کرانے کی ضرورت ہے۔اگر ہماری جماعت کے تمام لوگ اس ذمہ داری کو سمجھیں جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے کی وجہ سے ان پر مائکہ ہوتی ہے۔تو آج ہی ایک عظیم الشان انقلاب پیدا ہو سکتا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کو فتح کرنے کے لیے جو ہمیں کام کرنے چاہتیں انھیں ابھی ہم نے چھیڑا تک نہیں اور وہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔قناعت عمدہ چیز ہے، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ قومی ترقی میں بھی قناعت کی جائے کیونکہ ہر چیز اپنی جگہ اور محل پر اچھی ہوتی ہے۔مثلاً علم اچھی صفت ہے، لیکن اگر کوئی شخص کسی کی تعریف کرے کہ فلاں شخص بڑا ہی نرم دل ہے کہ اس کے بزرگوں کو گالیاں دی جاتی ہیں، مگر چپکا بیٹھا ئے رہا ہے۔تو یہ تعریف نہیں ہوگی۔بلکہ ایسا آدمی بے غیرت ہوگا۔اور اس کی وسعت حوصلہ اور وسعت