خطبات محمود (جلد 6) — Page 224
۲۲۴ کامیابی اپنی باتوں میں نہیں۔ بلکہ اسلام پرعمل کرنے سے ہے پیس چھوٹی چھوٹی قربانیاں کرو کیونکہ اگر نہیں کرو گے۔ تو بہت بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑیں گی تم نے قوموں کے حالات کو دیکھا ہے اور پھر تم نے مسلمانوں کی حالت کو بھی خوب دیکھا ہے ۔ تم انھیں میں سے ہو۔ دیکھو جب ان میں بادشاہت تھی تو ایک دوسرے کے متعلق یہ خیال کر کے کہ وہ اہل نہیں۔ اور میں بادشاہت کا اہل ہوں۔ اس کے گرانے کی کوشش کرتا تھا۔ اور ایک قاضی یا ایک وزیر یا ایک کمانڈر انچیف دوسرے کے خلاف کوشش کرتے تھے۔ جتھے بناتے تھے ان کو صرف رسوخ کی خواہش ہوتی تھی ۔ ورنہ یوں وہ بڑے مالدار ہوتے تھے پس وہ اتنی چھوٹی سی قربانی نہیں کر سکتے تھے مگر آج دیکھ لو ان کی کوئی حکومت ند رہی۔ کیونکہ انھوں نے اپنی اغراض کو مقدم کیا ۔ اور صرف رسوخ کے لیے جماعت میں تفرقہ ڈالا ۔ اب ہندوؤں کی حکومتیں ہیں دیکھ لو۔ بدھوں کی خود مختار سلطنت چین میں ہے۔ جاپان میں ہے۔ مگر مسلمانوں کی ایک بھی خود مختار سلطنت نہیں ۔ ترکی تھی۔ وہ جاچکی ہے ۔ افغانستان میں باقی تھی وہ اب جائے گی ۔ ایران کی ایسی ذلیل حالت ہے کہ وہ معمولی سوداگروں سے بھی گیا گذرا ہے۔ اس کو ۵ لاکھ روپیہ قرض کی ضرورت تھی جس کے لیے ضامن طلب کیا جاتا تھا۔ آج بمبئی میں ایسے ایسے تاجہ ہیں۔ کہ اگر وہ چاہیں تو ان کی ذات پر بھروسہ کر کے لوگ ۵۰ - ۵۰ لاکھ روپیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ ابھی ہماری سرکار برطانیہ کو جنگ کے دوران میں ضرورت پڑی مرسہ کے ایک سیٹھ نے ایک کروڑ دس لاکھ روپیہ قرضہ دیدیا۔ مگر اس کے مقابلہ میں ایران کی سلطنت ہے کہ ۱۵ لاکھ روپیہ قرض مانگتی ہے۔ تو اس سے ضامن مانگا جاتا ہے سوداگروں کی اس سے بڑی ساتھ ہے۔ مگر اس مسلمانوں کی سلطنت کی نہیں ۔ یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ انھوں نے وقت پر چھوٹی قربانیاں نہ کیں تو اب ان کا یہ حشر ہوا۔ یا پیس اخلاق سیکھو چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنا چھوڑ دو۔ اتفاق و اتحاد کیسے پیدا ہوسکا ہے جب تم ایک شخص پر تلوار چلا اور پھر توقع کھو کہ وہ مہارا بھائی بنا ہیگا۔ ایک شخص تمہارے پاس آئے ۔ اور تم اس کو ذلیل خیال کرو تو وہ کب تم سے محبت کر سکتا ہے ۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ انسان ذلیل کر نیوالے دوآب اور تکلیف پہنچانے والے سے محبت نہیں کر سکتا۔ جب تک تم دوسرے کے آگے محبت سے نہیں مجھکو گے۔ اور اخلاق فاضلہ سے پیش نہیں آؤ گے۔ اور دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف نہیں خیال کرو گے ۔ اتفاق پیدا نہیں ہو سکتا ۔ ایک شخص محبت سے بات کرنے اور خندہ پیشانی سے ملنے یا کسی دوسرے بھائی کو فائدہ پہنچتا ہو اس سے گریز کرے۔ تو اس سے کیسے محبت ہو سکتی ہے اس