خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 223

۲۲۳ بات ہو جائیگی۔ بلکہ اسلام ایسے قاعدے اور اصول بتاتا ہے کہ جن پر عمل کرنے سے اتفاق حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے پکڑنے کے یہ معنی ہیں کہ ان اخلاق و اطوار کو اپنے اندر پیدا کیا جائے۔ جو اسلام نے تعلیم دیتے ہیں اور جو اس طرح اسلام کو پڑے گا وہ کبھی نا اتفاقی کی بات نہیں کر سکتا۔ اسلام کو اس کے لیے صحابہ کی مثال موجود ہے۔ ان میں جھگڑے ہوتے تھے۔ مگر نا اتفاقی کرنے والے نہیں بلکہ آپس کے اتفاق و اتحاد کو اور مضبوط کرنے والے ہوتے تھے۔ مثلاً جس کا مال ہوتا۔ وہ تو کہتا ہے کہ میرا مال تھوڑی قیمت کا ہے، لیکن خریدار کہتا ہے۔ نہیں زیادہ قیمت کا ہے۔ اس طرح لینے والا کہتا ہے ۔ کرتیں کم کونگا مگر دینے والا کہتا ہے۔ نہیں میں زیادہ دونگا۔ یہ ان کے جھگڑے کی مثال ہے۔ مگراب لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگر دس روپیہ کی چیز ہو تو ہمیں روپیہ کی باتیں گئے ۔ اور خریدار پانچ ہی کی بتائیگا۔ اور دونوں جھوٹ بولیں گے ۔ بیس اگر اسلام پر عمل ہو تو اتفاق و اتحاد کی بنیادیں مضبوط ہو سکتی ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ہلے تم لوگں میں کتنا فرقہ تھا لیکن پھر اسلام کے ذریعہ تم میں اتفاق واتحاد پیدا کر دیا۔ تم لڑتے جھگڑتے تھے تمہیں لڑائی سے بچایا۔ تم ذلیل و حقیر تھے۔ تمہیں عزت دی ۔ پس اگر ایسی با برکت چیز کی قدر نہ کرو گے تو کتنے افسوس کی بات ہوگی۔ غور کرو کہ ایک چیز عنقا کی طرح لاپتہ ہو ہینگر خدا کے فضل سے کسی کے ہاتھ آجائے اور وہ لا پروائی سے اس کو ضائع کر دے تو اس سے بڑھ کر مجرم کون ہو سکتا ہے۔ یہ پرانے زمانہ کی باتیں نہیں کہ فلاں قوم میں اتفاق پیدا ہو گیا تھا۔ اب بھی ہو سکتا ہے۔ اور میں اپنی جماعت کو متوجہ کرتا ہوں ۔ ایک وقت تھا کہ ہم میں کوئی اتفاق و اتحاد نہ تھا۔ کوئی کہیں کا تھا کوئی کہیں گا۔ کسی کا کوئی مشرب تھا ۔ اور کسی کا کوئی ۔ مگر خدا نے اپنے نبی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ ہم میں اتحاد و اتفاق پیدا کیا، لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو اس کی پروا نہیں کرتے ۔ اتفاق جو ایسی قیمتی چیز ہے اور جو خدا نے مسیح موعود کے ذریعہ دی ہے۔ ناران کوشش کرتے ہیں کہ اس کو کھو دیں حالانکہ وہ نہیں جانتے۔ کہ یہ وہ چیز ہے کہ جو دنیا کو کوشش سے بھی نہیں ملتی ۔ مگر انھیں خدا نے بغیر محنت و کوشش کے محض اپنے فضل سے مفت عطا کر دی ہے ۔ میں خاص طور پر اپنی جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ اس کام کو جس پر انھیں لگایا گیا ہے کوشش سے انجام دے بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے احساسات کا خیال نہیں رکھتے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر لکھتے ہیں۔ افسر ماتحت کو ذلیل خیال کرتے ہیں۔ اور ان کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے اور ماتحت افسروں کو تنگ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ جس ترقی کی طرف بلاتے جا رہے ہیں۔ وہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ وہ یاد رکھیں کہ عزت و