خطبات محمود (جلد 6) — Page 220
(42) اتفاق و اتحاد العام الٹی ہے اس کی قدر کرو ) فرموده ۲۳ رمتی شامله ) ( حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت کریمہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَالْفِ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَا صَبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَالْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَالِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ إِلَيْهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ - (ال عمران : ۱۰۳) تلاوت کی اور فرمایا :- انسانوں کا اتفاق و اتحاد ایک ایسی ضروری چیز ہے کہ دنیا کی تمام قومیں اور مذاہب اس کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں مگر باوجود ضرورت کے تسلیم کرنے کے ہر قوم اور ہر جماعت اور ہر فرقہ میں تفرقہ و شقاق پایاجاتا پایا جاتا ہے۔ ہے ۔ ضرورت تو تو اسکی اس اتنی کی اتنی ہے ا ہے ا کہ ا دنیا ا و و کی کوئی و ا قوم و اور و کوئی ر اس کی ضرورت سے الحاد نہیں کر سکتا۔ مگر عملاً دیکھتے ہیں۔ تو کوئی فرقہ ایسا نظر نہیں آتا جس میں وہ اتفاق کامل نظر آتے جس پر انسان کی ترقی کا مدار ہے۔ یہ سچ ہے کہ بعض میں کم ہے۔ کم ہے۔ اور بعض میں زیادہ مگر اپنی اصلی شکل میں کم سے کم اس وقت تو کہیں نظر نہیں آتا ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اتفاق و اتحاد کی بنا ایسے نازک اصول پر ہے، کہ جنگی نگہداشت بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی ضرورت کے سب قائل ہیں۔ اور مانتے ہیں کہ اس کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی، اور خواہش رکھتے ہیں کہ آپس میں اتفاق ہو۔ اور ہر قوم کے سمجھدار اس کے حاصل کرنے میں لگے ہوتے ہیں مگر پھر بھی نا اتفاقی پائی جاتی ہے۔ پس ان تمام باتوں کے باوجود اتفاق کا نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ اس کی بنیاد بہت نازک اصول پر ہے، اور انسان پر مشکل ہے کہ ان کی پوری نگہداشت کر سکے۔ اب جبکہ واقعات اور دلائل سے ثابت ہو گیا کہ اتفاق واتحاد کے اصول کی بنیاد نازک ہے۔