خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 214

۲۱۴ کلمہ تک نہیں جانتے۔اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مدینہ جو ایک اقت صداقت کا منبع تھا۔اب وہاں سے ہر سال جھوٹ شائع ہوتا ہے۔وہاں سے ایک اشتہار شائع ہوا کرتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ایک مجاور کو جس کا نام درج ہوتا ہے۔رسول کریم ملے۔اور کہا کہ اس سال حبس قدر لوگ مرے ہیں۔ان میں اتنے دوزخی ہیں اور اتنے جنتی۔عام لوگ تو اس کو سمجھتے بھی نہیں، وہ ایک تعویذ سمجھ کرلے آتے ہیں اور جو پڑھے لکھے ہوتے ہیں ان میں بھی بیشتر ایسے ہی ہوتے ہیں جو اس کی حقیقت کو نہیں معلوم کر سکتے جیسوں سال گزر گئے ایک ہی مضمون ہوتا ہے جو شائع کیا جاتا ہے۔تو وہ مدینہ جو صداقت کا منبع تھا آج کذب کا منبع ہے اور کذب بھی ایسا کہ اس میں خدا پر جھوٹ بولا جاتا ہے۔اور اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔تو زمانہ کے تغیرات سے اقوام اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں داخل ہو کر مغضوب عليهم اور ضالین میں شامل ہو جاتی ہیں۔رسول کریم جن کو خدا کی طرف سے سب سے زیادہ علم دیا گیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ ایک وقت میں میری اُمت کی وہ حالت ہوگی جو بہبود کی ہوئی۔فرمایا ان کی ہر ایک حرکت وسکون ان کا ہر قول و فعل میہود کی مانند ہوگا اور فرمایا کہ اس وقت میری امت کے علماء بدترین خلایق ہو گئے اور ایسے لوگ دین کی اشاعت کا دم بھر نینگے جو دین کی حقیقت سے بے بہرہ ہو نگے لیے یہ زمانہ پہلوں کے لیے سمجھنا مشکل تھا۔چنانچہ صحابہ نے حیرت سے پوچھا تھا۔کہ کیا رسول اللہ ایسا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا۔لیکن آج کا سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں رہا۔کیونکہ اب وہی زمانہ آگیا ہے۔جہاں پہلے مسلمان ہونا صداقت کا نشان سمجھا جاتا تھا۔آج مسلمان کے معنے جھوٹے اور غدار سمجھے جاتے ہیں۔مسلمان پہلے وفادار کے معنوں میں بولا جاتا تھا ، لیکن آج فریبی اور بے وفا کے معنوں میں سمجھا جاتا ہے اور خودمسلمانوں میں ایسے لوگ ہیں جو ہندوؤں کو اس لیے نوکر رکھتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں مسلمان دیانتدار نہیں ہوتے۔آج ایک مسلمان کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ سیدھا سادہ مسلمان تھا ہمیشہ مفوض رہا۔گویا جس سے کچھ لیا پھر اسے دینے کا نام نہ لیا۔پس یہ انعَمتَ عَلَيْهِمُ میں داخل ہو کر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں شامل ہو گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد یہ خیال نہیں ہو سکتا تھا کہ مسلمان کسی نبی اور مامور کی مخالفت کی جرات کریں گے۔مگر مسلمانوں نے بتا دیا کہ ان کے متعلق یہ خیال درست نہیں تھا کیونکہ عدا له مشكوة المصابيح كتاب الانذار والتحذير باب تغير الناس : نت مشكوة كتاب العلم الفصل الثالث في فضيلته بخاری و مسلم بحوالہ مشکوة كتاب الفتن فيما تكون فيها الى قيام الساعة