خطبات محمود (جلد 6) — Page 206
عليه خدا ہمیں فساد سے روکتا ہے۔ ہمارا مسیح موعود ہیں وفاداری کی تعلیم دیتا ہے پس تم دین کے لیے، خُدا کے لیے اور مسیح موعود کے لیے امن کو قائم رکھو کسی کے قدر کرنے کے خیال کو دل میں بھی نہ لاؤ۔ کیونکہ ہمارے دین کی ترقی اس سے ہوگی ۔ اگر دنیا کی نظر میں تم اس وجہ سے ذلیل کٹر ہو تومت پروا کرو کیونکہ خدا تمہاری عزت کریگا ۔ خدا ر اتنا بیان فرما کر حضور بر حضور بیٹھ گئے۔ اور جب دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تو فرمایا ) پچھلے دنوں جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا کہ ہمیں اپنے اپنے علاقہ میں امن قائم رکھنا چاہتے اورکی قسم کے فساد میں شامل نہیں ہونا چاہیئے۔ تو اس وقت بعض نادان مخالفوں نے کہا کہ یہ گورنمنٹ سے عربت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ اگر گورنمنٹ ہمیں خطاب دے تو وہ خطاب ہماری عزت کو کیا بڑھا سکتا ہے۔ جبکہ خدا نے خطاب یا فتوں کو اپنے فضل سے ہمارا غلام بنا دیا ہے۔ جو بیعت کرتا ہے وہ غلامی کا اقرار کرتا ہے کئی خان بہادر آتے ہیں اور بعیت کرتے ہیں۔ اور بعیت پس جو کچھ ان لوگوں کے خیال میں ہم گورنمنٹ سے لینا چاہتے ہیں ۔ وہ تو خدا کے فضل سے ہمارے مریدوں کو حاصل ہے حضرت مسیح موعود جب وفاداری کی تعلیم دیتے تھے تو مخالف کہتے کہ گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں میگر وہ نہیں جانتے کہ خدا کے نبی خوشامدی نہیں ہوتے جب مسلمان کہتے تھے کہ سلطان روم محافظ حرمین ہے۔ تو حضرت مسیح موعود نے لکھا تھا کہ یہ غلط ہے ۔ بلکہ حرمین اس کے محافظ ہیں یہ مسلمانوں نے اس پر منہی کی۔ مگر دیکھ لو جب حرمین ان کی حکومت سے علیحدہ ہوئے ۔ ترک اسی وقت مٹ گئے ۔ پس اسی طرح یاد رکھو کہ مسیح موعود اس گورنمنٹ کے محافظ تھے ۔ آپ نے لکھا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ کا محافظ ہے۔ کیونکہ مجھکو اس نے اس حکومت کے ماتحت مبعوث فرمایا ہے ۔ پس ہم دنیا کے لیے نہیں بلکہ خدا کے لیے فرمانبردار ہیں ۔ اس لیے لوگ اگر ہم پر ہنستے ہیں تو اس کی پروا نہیں۔ خدا ہمیں دیکھتا ہے اور وہ ہم سے خوش ہے۔ اس لیے اس کی خوشی کے مقابلہ میں دنیا کی خوشی کی کوئی پروا نہیں ۔ له الحکم امتی شلة الفضل ۔ ارمتی اولته ) (