خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 206

خُدا ہمیں فساد سے روکتا ہے۔ہمارا مسیح موعود ہیں وفاداری کی تعلیم دیتا ہے پس تم دین کے لیے خُدا کے لیے اور مسیح موعود کے لیے ان کو قائم رکھو کسی کے قدر کرنے کے خیال کو دل میں بھی نہ لاؤ۔کیونکہ ہمارے دین کی ترقی اس سے ہوگی۔اگر دنیا کی نظرمیں تم اس وجہ سے ذلیل ٹھہرو تومست پروا کرو کیونکہ خدا تمہاری عزت کریگا۔ر اتنا بیان فرما کر حضور بیٹھ گئے۔اور جب دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا ) پچھلے دنوں جب ہم نے لوگوںکو جمع کیا کہ میں اپنے اپنے علق میں امن قائم رکھنا چاہیئے اور تم کے فساد میں شامل نہیں ہونا چاہیئے۔تو اس وقت بعض نادان مخالفوں نے کہا کہ یہ گورنمنٹ سے عزت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ اگر گورنمنٹ ہمیں خطاب دے تو وہ خطاب ہماری عزت کو کیا بڑھا سکتا ہے۔جبکہ خدا نے خطاب یا فتوں کو اپنے فضل سے ہمارا غلام بنا دیا ہے۔جو بیعت کرتا ہے وہ غلامی کا اقرار کرتا ہے کئی خان بہادر آتے ہیں اور بیعت کرتے ہیں۔پس جو کچھ ان لوگوں کے خیال میں ہم گورنمنٹ سے لینا چاہتے ہیں۔وہ تو خدا کے فضل سے ہمارے مریدوں کو ماتل ہے حضرت مسیح موعود جب وفاداری کی تعلیم دیتے تھے تو مخالف کتے کہ گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ خدا کے نبی خوشامدی نہیں ہوتے جب مسلمان کہتے تھے کہ سلطان روم محافظ حرمین ہے۔تو حضرت مسیح موعود نے لکھی تھا کہ یہ غلط ہے۔بلکہ حرمین اس کے محافظ ہیں کہ مسلمانوں نے اس پر منبی کی۔مگر دیکھ لوجب حرمین ان کی حکومت سے علیحدہ ہوئے ، ترک اسی وقت مٹ گئے۔پس اسی طرح یا درکھو کہ مسیح موعود اس گورنمنٹ کے محافظ تھے۔آپ نے لکھا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ کا محافظ ہے۔کیونکہ مجھکو اس نے اس حکومت کے ماتحت مبعوث فرمایا ہے۔پس ہم دنیا کے لیے نہیں بلکہ خدا کے لیے فرمانبردار ہیں۔اس لیے لوگ اگر ہم پر ہنستے ہیں تو اس کی پروا نہیں۔خدا ہمیں دیکھتا ہے اور وہ ہم سے خوش ہے۔اس لیے اس کی خوشی کے مقابلہ میں دنیا کی خوشی کی کوئی پروا نہیں " الفضل امتى ٩١٩لة ) ن الحکم امتی شلة