خطبات محمود (جلد 6) — Page 205
۲۰۵ - لوگ خود بھی محفوظ رہتے اور ہماری جماعت پر بھی کوئی تکلیف نہ آتی ہیں تمہیں چاہتے کہ دوسروں کو بھی امن کے قائم رکھنے کی ترغیب دلاؤ ۔ دکھوں سے مت ڈرو اور مت خیال کرو کہ لوگ تمہیں تکلیف دیں گے ۔ تکلیفوں سے ڈرنے والے بزدل ہوتے ہیں۔ تکلیف کو برداشت کرو کیونکہ مومن دلیر اور جری ہوتا ہے اور وہ خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ طاعون کے دنوں میں ٹیکا ایجاد ہوا، لیکن حضرت صاحب نے اپنی جماعت کو اس سے بھی روک دیا۔ کیونکہ آپ کو خدا نے بتایا کہ میں ان کی حفاظت کرونگا ۔ جو تیرے گھر میں ہونگے ۔ اور الہام ہوا کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام لیتے پس لوگوں کی دھمکیاں اور تکلیفیں کچھ نہیں کر سکتی ہیں۔ ہم سب کچھ خدا کے لیے کرتے ہیں ۔ اس لیے ہم ڈر نہیں سکتے جو قوم ڈرتی ہے۔ وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ موت ایک پردہ ہے جو ہم میں اور خدا اور خدا کے درمیان حائل ہے۔ وہ پردہ اُٹھتا ہے تو ہم اپنے خدا کو مل جاتے ہیں بیس مومن کسی کی منہی کی پروا نہیں کر سکتے کیونکہ خدا ہما را دوست ہے ۔ وہ ا ہے۔ وہ لوگ نادان ہیں۔ جو ہم پر ہنستے ہیں۔ وہ نہیں جانتے اور وہ نہیں د نتے اور وہ نہیں دیکھتے جب ان کو معلوم ہوگا کہ ہمارے پاس حقی ہے۔ تب ان کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔ ہماری مثال تو ڈاکٹر کی ہے اور ان کی مریض کی ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب ڈاکٹر نشتر لگاتا ہے تو مریض اس کو گالیاں دیتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر کا فعل اس کے فائدہ کے لیے ہوتا ہے۔ مریض کی گالیوں سے ڈاکٹر ناراض نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ نا واقف ہے ۔ تم کو خدا نے ڈاکٹر بنایا ہے تمہارے ذریعہ خدا ان روحانی مریضوں کو صحت دیگا۔ پھر یہ تمہارے شکر گیا ہو نگے پس تم جرات کرو اور لوگوں کو سمجھاؤ ۔ یہ مت خیال کرو کہ گورنمنٹ تمہاری قدر نہیں کرتی ہم جو کچھ کرتے ہیں گورنمنٹ سے قدر کرانے کیلئے نہیں کرتے۔ بکہ خدا کے لیے کرتے ہیں۔ اور خدا کے حکم سے کرتے ہیں کہ زمین می فسادنہ کرو اور ان کو قائم رکھو۔ اگرکوئی ایسی گورنمنٹ ہو جو یہ کہے کہ تم فساد کرو۔ تو ہم یا تو اس کے ملک کو چھوڑ دیں گے یا اس کو اس کے اس خیال سے ہٹائیں گے لیس اگر گورنمنٹ کے حکام تمہارے کام کی قدر نہ کریں تو پر امت کرو۔ ہمارا یہ فعل اس غرض سے نہیں ہے کہ کوئی ہماری قدر کرے۔ یہیں گورنمنٹ کیا دے سکتی ہے۔ ہمیں دینے والا ہمارا خُدا ہے اس لیے ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی لالچ سے نہیں کرتے ہیں تو خدا نے وہاں کھڑا کیا ہے جہاں کسی مرح اور ذم کا اثر پہنچ ہی نہیں سکتا۔ اسلئے ہم اسکے محتاج نہیں کہ وہ ہماری قدر کرے کیونکہ ہمارا کام خدا کی رضا کا حاصل کرنا ہے ۔ ہمارے نزدیک لاریج گناہ ہے۔ کیا کسی خطاب کیلئے ہم فساد سے بچتے ہیں، کیا چند مربعوں کیلئے ہم وفا دار ہیں۔ ہرگز نہیں کیونکہ ہماری نظر میں خطاب اور مریعے کوئی چیز نہیں ہیں۔ ہم خدا کیلئے کرتے ہیں ہیں تم بتاؤ کہ خطاب اور مربے بڑے ہیں یا خدا بڑا ہے۔ ہم وفادار ہیں ۔ ہم امن قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے ۔ ہمارا کے تذکره م ۳۹