خطبات محمود (جلد 6) — Page 203
۲۰۳ " دیر تک وہ پھٹے نہیں تو کہیں گے کمبخت پھٹنے میں ہی نہیں آتا ۔ یا جو تا چھ مہینے کی بجائے سال بھر تک چلے تو کہیں گے کمبخت ٹوٹنے میں ہی نہیں آتا ۔ اسی مزاج کے لوگوں کا اس وقت گورنمنٹ کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹوٹتی کیوں نہیں ۔ گویا گورنمنٹ کا کوئی و قصور ہے تو یہ کہ یہ ٹوٹتی کیوں نہیں۔ حضرت مسیح موعود ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک گاؤں کا نام تھا تم بادشاہ وہاں سے گزرا اور وہاں ٹھرا اور پوچھا کہ اس گاؤں کا کیا نام ہے تایا گیا کہ اس کا نام ہے تم بادشاہ چلا گیا اور کم بھیجا يا قاضي ثُمَّ إِنَّا عَزَلْنَاكَ فَقَم اسے قسم کے قاضی ہم نے تجھ کو معزول کیا ہیں اُٹھ کھڑا ہو۔ قاضی کو جب یہ حکم ملا تو رو پڑا اور کہا کہ مجھے تو اس قافیہ نے تباہ کیا۔ محض قافیہ کے خیال سے بادشاہ نے یہ حکم بھیجا ہے ۔ اور اس قافیہ نے میرا گھر تباہ کر دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے ، لیکن آج سے دس پندرہ برس پہلے اگر سیکنڈ کلاس میں دس دیسی ہوتے تھے اور ایک انگریز تو وہ روہ دسوں اس قدر ڈرتے تھے جس کی حد نہیں اور بعض انگریز بھی حکومت کے زعم میں مبرا رویہ اختیار کرلیتے تھے ۔ اگر سیکنڈ کلاس میں کوئی انگریز ہوتا اور وہاں جگہ خالی ہوتی اور دیسی داخل ہونے لگتا تو وہ اسباب بنچ کے نیچے سے اُٹھا کر سیٹ کے اور جگہ خا اوپر رکھ دیا۔ گو میرا تجربہ زیادہ نہیں۔ مگر میں نے خود یہ حالت دیکھی ہے مگر اس کے بعد چند سالوں سے اس حالت میں ایک تغیر بھی دیکھا ہے کہ ریل میں انگریز مسافر خود اسباب کو پرے ہٹا کر دیسیوں کے لیے جگہ خالی کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپس کے سلوک میں پہلے سے بہت ترقی ہو رہی ہے۔ پیس اب گورنمنٹ پہلے سے خراب نہیں ہو گئی ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں اس گورنمنٹ کی عمر لمبی ہوگئی ہے۔ یہ تو خیر ایک غیر ملک کی گورنمنٹ ہے۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ بعض سنگدل ماں باپ کو گالیاں دینے لگتے ہیں کہ کیوں نہیں مرتے ۔ اگر مریں تو جا نداد کو اپنے تصرف میں لاتیں ۔ گورنمنٹ نے ان کو امن و امان اور دیگر ہزارہ قسم کے فوائد پہنچاتے ہیں۔ مگر لوگ ان حسانوں کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ ہم پر ان کا کیا احسان ہے۔ کیونکہ یہ جو کچھ کرتے ہیں۔ اس میں ان کا اپنا فائدہ تھا۔ اوّل تو میں نے یہ بتایا ہے کہ یہا بتایا ہے کہ یہ اصول ہی غلط ہے کہ اس طرح احسان راد احسان نہیں رہتا۔ اگر نیکی کرنے والوں کو بھی کچھ فائدہ پہنچ جاتے۔ مگر ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ گورنمنٹ کا ہم پر کوئی احسان نہیں، لیکن خدا کا تو ہم پر احسان ہے کہ ان کے ذریعہ نہیں بہت سے فوائد میستر ہو گئے۔ جلا ہوں کا ہم پر احسان نہ سہی، لیکن خدا کا احسان ہے کہ ہمارے لیے اس کثرت وبہتات سے کپڑا ہتا ہو گیا ہے۔ ابھی کچھ ہی زمانہ گزرا ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ لنگوٹی باندھے پھرا کرتے تھے