خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 203

وہ پھٹے نہیں تو کہیں گے کمبخت پھٹنے میں ہی نہیں آتا۔یا جوتا چھ مہینے کی بجائے سال بھر تک چلے تو کہیں گے کمبخت ٹوٹنے میں ہی نہیں آتا۔اسی مزاج کے لوگوں کا اس وقت گورنمنٹ کے متعلق خیال ہے۔کہ یہ ٹوٹتی کیوں نہیں۔گویا گورنمنٹ کا کوئی قصور ہے تو یہ کہ یہ ٹوٹتی کیوں نہیں۔حضرت مسیح موعود ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک گاؤں کا نام تھا تم بادشاہ وہاں سے گزرا اور وہاں ٹھرا اور پوچھا کہ اس گاؤں کا کیا نام رہے بتایا گیا کہ اس کا نام ہے تم بادشاہ چلا گیا اور حکم بیا يا قاضي كُمْ إِنَّا عَزَلْنَاكَ فقم اسے قم کے قاضی ہم نے تجھ کو معزول کیا پس اُٹھ کھڑا ہو۔قاضی کو جب یہ حکم ملا تو رو پڑا اور کہا کہ مجھے تو اس قافیہ نے تباہ کیا۔محض قافیہ کے خیال سے بادشاہ نے یہ حکم بھیجا ہے۔اور اس قافیہ نے میرا گھر تباہ کر دیا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے، لیکن آج سے دس پندرہ برس پہلے اگر سیکنڈ کلاس میں دس دیسی ہوتے تھے اور ایک انگریز تو وہ دسوں اس قدر ڈرتے تھے جس کی حد نہیں اور بعض انگریز بھی حکومت کے زعم میں برا رویہ اختیار کرلیتے تھے۔اگر سیکنڈ کلاس میں کوئی انگریز ہوتا اور وہاں جگہ خالی ہوتی اور دیسی داخل ہونے لگتا تو وہ اسباب بیچ کے نیچے سے اُٹھا کر سیٹ کے اوپر رکھ دیتا۔گو میرا تجربہ زیادہ نہیں۔مگر میں نے خود یہ حالت دیکھی ہے مگر اس کے بعد چند سالوں سے اس حالت میں ایک تغیر بھی دیکھا ہے کہ ریل میں انگریز مسافر خود اسباب کو پرے ہٹا کر دیسیوں کے لیے جگہ خالی کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپس کے سلوک میں پہلے سے بہت ترقی ہو رہی ہے۔پس اب گورنمنٹ پہلے سے خراب نہیں ہوگئی۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں اس گورنمنٹ کی عمر لمبی ہو گئی ہے۔یہ تو خیر ایک غیر ملک کی گورنمنٹ ہے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ بعض سنگدل ماں باپ کو گالیاں دینے لگتے ہیں کہ کیوں نہیں مرتے۔اگر مریں تو جا نداد کو اپنے تصرف میں لائیں۔گورنمنٹ نے ان کو امن و امان اور دیگر ہزار ہا قسم کے فوائد پہنچاتے ہیں مگر لوگ ان محسنوں کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ ہم پر ان کا کیا احسان ہے۔کیونکہ یہ جو کچھ کرتے ہیں۔اس میں ان کا اپنا فائدہ تھا۔اول تو میں نے یہ بتایا ہے کہ یہ اصول ہی غلط ہے کہ اس طرح احسان احسان نہیں رہتا۔اگر نیکی کرنے والوں کو بھی کچھ فائدہ پہنچ جاتے۔مگر ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ گورنمنٹ کا ہم پر کوئی احسان نہیں ، لیکن خدا کا تو ہم پر احسان ہے کہ ان کے ذریعہ نہیں بہت سے فوائد میتر ہو گئے۔جلا ہوں کا ہم پر احسان نہ سہی، لیکن خدا کا احسان ہے کہ ہمارے لیے اس کثرت وبہات سے کپڑا مدیا ہو گیا ہے۔ابھی کچھ ہی زمانہ گذرا ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ لنگوٹی باندھے پھرا کرتے تھے۔