خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 201

۲۰۱ تھی کہ وہ آبادی سے گھبرانے لگ گئی تھی اور اس امر کی شاکی تھی کہ خدا نے ان کے ملک کو کیوں اسقدر آباد بنا دیا ہے کہ جنگل کوئی نظر ہی نہیں آتا ۔ پھر خدا نے اس قوم پر عذاب بھیجا۔ اور اس قوم کو تباہ کردیا۔ تو جب انسان کی عقل ماری جاتی ہے اچھی بات بُری معلوم ہوتی ہے اور پھر مجیب عجیب دلائل سوجھنے لگتے ہیں۔ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے جو ہم پر احسان کیا ہے وہ احسان کہاں ہے اس میں اس کا ذاتی فائدہ بھی تھا۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر کی شخص کا کسی بات میں ذاتی فائدہ بھی ہو تو وہ نیکی کیوں نہیں رہتی ۔ بدا احسان کے صرف اتنے معنی ہیں کہ ایک شخص کسی دوسرے کے ساتھ کوئی ایسا کام کرے جس میں اس دوسرے شخص کا فائدہ ہو اور اس کی نیت ہو کہ اس سے اُسے آرام ملے اور یہ بات احسان کے منافی نہیں ہے کہ اس نیکی یا بھلائی کرنے والے کو بھی اس کے ذریعہ کوئی فائدہ پہنچتا ہو ۔ اگر کسی کی اپنی غرض کے باعث احسان احسان نہیں رہتا تو ماننا پیر بیگا کہ خدا کا بھی نعوذ باللہ کوئی احسان نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو جو پیدا کیا ہے اس کی خاص فرض اور منشاء ہے۔ جیسا کہ فرمایا ما خلقت الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذريت : ٥٠) کہ ہم نے انسان کو اس غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ ہماری عبادت کرے تو اب دیکھ لو کہ خدا کے مخلوق پیدا کرنے میں بھی ایک غرض اور غایت ہے۔ تو کیا اس طرح کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ خدا کا ہم پر احسان نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ایک غرض سے پیدا کیا ہے۔ یہ ایک موٹی بات ہے اور مشخص سمجھ سکتا ہے کہ اللہ کی صفت خالقیت کے سفت خالقیت تقاضا کرتی ہے کہ پیدا کرے ۔ تو کوئی نادان کہدے کہ اگر وہ پیدا نہ کرتا نہ کرتا تو کیسے ثابت ہوتا کہ وہ خالق ہے۔ یا اگر وہ رم نہ کرتا تو رحیم کسے کہلاتا، یا اگروہ ربوبیت نہ کرتا تو رب کیسے کہلا سکتا تھا۔ ہیں یہ جو کچھ وہ کرتا ہے یہ اس کی صفات کا تقاضا ہے۔ اگر وہ یہ کام نہ کرتا تو اس کی صفات کا کس طرح اظہار ہو سکتا تو یہ کام یعنی رحیمیت رحمانیت اور ربوبیت وغیرہ ہم پر کوئی احسان نہیں یا مثلاً اگر دکھ اور آفتا ت اور مصیبت میں ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے دکھ اور آفت کو دور کرتا ہے کیونکہ وہ روف ہے تو کہدیا جاوے کہ اس کے یہ افعال ہم پر احسان کے طور پر نہیں بلکہ اپنی صفات کے پورا کرنے کے لیے ہیں ۔ اور پھر یہی طریق انسانوں میں چلے گا اور ماں : گا اور ماں باپ کے متعلق کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ماں باپ کا ہم پر کیا احسان ہے انھوں نے اپنے خاص اغراض کو پورا کیا اور اسکا نتیجہ اس کی ولادت کی صورت میں ظام ظاہر ہو گیا اور ماں نے جو اس کو گودیوں میں کھلایا ، دودھ پلایا ، پرورش کیا تو یہ اس نے اپنی مامتا کے تقاضا سے وه ل سورة سبا : ٢٠