خطبات محمود (جلد 6) — Page 200
39 امن قائم رکھنا ہمارا مذہبی فرض ہے فرموده ۲۵ اپریل شاشته) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- چند دن سے چونکہ میرے حلق میں تکلیف ہے۔اس کی وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا اس لیے میں مختصراً آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں جس کا یا د رکھنا آپ کے لیے مفید اور نہایت ضروری ہے۔یہ یاد رکھو کہ خدا کی جو نعمتیں آتی ہیں۔اور اس کے جو احسان و انعام ہوتے ہیں۔ان نعمتوں اور احسانوں اور انعاموں کے رد کرنے والے دنیا میں بڑا دکھ پاتے ہیں۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ عموماً کچھ دنت بعد لوگ نعمت کو بھول جاتے ہیں اور ان کو نعمت کی قدر نہیں رہتی کیونکہ عموماً طبائع ایسی ہیں جو کہ تغیر کو پسند کرتی ہیں۔ایک شخص کو خاص قسم کا کھانا ہے اور متواتر ملتا ہے چند عرصہ کے بعد وہ شور مچا دے گا۔جن لوگوں کو عمدہ غذائیں ملتی ہیں۔وہ ادنی غذاؤں کی طرف توجہ کرتے ہیں۔جہاں غریب اس خیال میں ہوتا ہے کہ امیر خدا جانے کیا نعمتیں کھاتے ہیں۔وہاں امیر کسی غریب کے گھر کے پاس سے گذریں گے تو کہیں گے کہ ہمارے ہاں سب کچھ پکتا ہے، لیکن جیسی اس غریب کے ہاں کی ہنڈیا سے خوشبو آرہی ہے۔ویسی تمہیں کبھی اپنے کھانوں سے نہیں آتی۔حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ امراء کو ان نعمتوں کی قدر نہیں ہوتی۔اس لیے وہ ان کے لیے بے لذت ہو جاتی ہیں۔ایک رئیس جو غدر میں تباہ ہوگیا۔اس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ روز سیاہی کو حکم دیتا تھا کہ سی غریب کی ہنڈیا اُٹھا او۔اور جو اس کا اپا کھانا ہوتا تھا وہ اس کے ہاں بھجوا دیا تھا۔اس کی بہ وجہ نہیں تھی کہ وہ بڑا نفس کش اور متقی آدمی تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ خدا نے اس کوجو نعمتیں دے رکھی تھیں وہ ان کی قدر نہیں کرتا تھا۔غرض بہت انسان تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بہت جلد ایک حالت سے گھبرا جاتے ہیں، قرآن کریم میں ایک قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ خدا کی ناشکری میں یہانتک بڑھ گئی