خطبات محمود (جلد 6) — Page 198
١٩٨ دیتا ہے۔نیس مومن کو کبھی دعا سے غافل نہیں ہونا چاہیئے۔آجکل اس قدر جلد جلد حالات بدل رہے ہیں کہ کوئی شخص نہیں کہ سکتا کہ کیا ہونے والا ہے۔وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود کی اس پیشگوئی کے متعلق جس میں دُنیا میں زبر دست زلزلہ کے آنے کی اطلاع دی گئی تھی۔کہا کرتے تھے کہ زلزلہ اگر یورپ میں آیا ہے تو آئے۔ہندوستان میں کہاں ہے۔آج وہ دیکھ لیں کہ ہندوستان کی کیا حالت ہے پھر وہ لوگ جو کہتے تھے کہ جب تک اس ملک میں زلزلہ نہ آئے۔اس وقت تک اس پیشگوئی کو نہیں مان سکتے۔آج ان کے گھروں کے سامنے خون بہہ رہے ہیں اور آج ان کے گھروں کے سامنے زلزلہ آگیا۔میں نے شاہ میں ایک اشتہار بنگالی میں دیا تھا جس میں بتایا تھا کہ مسیح موعود آگیا۔اس کو قبول کرو۔بنگال سے بعض خط میرے پاس آئے کہ تم کہتے ہوکہ مسیح موعود آگیا۔حالانکہ سیح موعود اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک مسلمانوں کی حکومتیں مٹ نہ جائیں۔اس کے تھوڑے ہی دن بعد جنگ شروع ہو گئی۔اور ترک جرمنوں کے ساتھ مل گئے۔اس وقت میں نے کہا اگر پہلے خیال بھی ہو سکتا تھا کہ شاید جرمن جیت جائیں گے تو اب جبکہ ترک ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔ان کی شکست یقینی ہے۔کیونکہ خدا نے جس قوم کی شکست کو مقدر کر دیا ہو وہ جس کے ساتھ بھی شامل ہو گی اُسکو بھی لے ڈوبے گی چنانچہ مں نے اپنی دنوں میں ایک خطبہ میں اعلان کیا کہ اب وہ بھی اترک بھی باقی نہیں رہیں گے۔چنانچہ اب ان کی جو حالت ہو رہی ہے۔وہ سب کو معلوم ہے۔تو دشمن نے کہا تھا کہ جنگ اگر زلزلہ ہے۔تو ہمارے ملک میں نہیں آیا۔خدا نے اس ملک میں بھیج دیا۔دشمن کہتے تھے کہ جب تک ترک تباہ نہ ہوں میسج موعود نہیں آسکتا۔خدا نے ایسا ہی کر دیا۔اور جس جس رنگ میں اعتراض کیا گیا۔خدا نے اسی طرح اس کا دندان شکن جواب دیا، لیکن ہمارے لیے یہ عبرت کا موقعہ اور خدا کے حضور گریہ و زاری کرنے کا مقام ہے تاکہ یہ تغیرات ہمارے لیے خدا کے فضل کے ماتحت برکات کا موجب ہوں اور کسی ابتلاء کے سبب نہ ٹھہریں۔پس یہ وقت غفلت کا نہیں ہے بلکہ یہ وقت خدا تعالیٰ کے حضور گر کر عاجزی اور انکساری سے دُعائیں کرنے کا ہے۔کیونکہ خدا کے ابلام کا برداشت کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔بعض لوگ خیال کیا کرتے ہیں کہ مشکل سے مشکل ابتداء کو برداشت کر لیں گے۔لیکن وقت پر وہ چھوٹے سے چھوٹے ابتلا کو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔پس خدا کے ابتلاؤں عذابوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیتے بلکہ جہاں تک ہو سکے ان سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیتے اور دُعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اس نازک وقت میں نہیں صحیح طریق پر