خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 195

۱۹۵ 38 موجودہ حالات میں دُعا سے کام لو د فرمودہ اور اپریل له ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- بعد بہت سے مذاہب جن کا پتہ دنیا میں ملتا ہے دُعا کے قائل ہیں بہت سے مذاہب سے میری مراد میری یہ نہیں ہے کہ موجودہ مذاہب میں سے بہت ۔ بلکہ میری مراد ان کے مقابلہ میں ہے جو مٹ گتے ہیں۔ ان کی اگر چہ نہیں پوری تفصیلیں معلوم نہیں مگر ہم موجودہ پر قیاس کر کے کہہ سکتے ہیں۔ اگر ہم ان ممالک کی حالت پر غور کریں جنہوں نے کبھی تہذیب و تمدن کو دیکھا ہے توان میں مبتقدر بھی مذاہب ہوتے ہیں۔ ان تمام میں دکھا پر خاص زور دیا گیا ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض نے زیادہ زور دیا ہے اور بعض نے کم اور بعض دعا کی اصلیت اور حقیقت سے منکر ہو گئے ہیں اور ان میں محض دعا کا نام رہ گیا ہے۔ یعنی بعض میں دُعا نو کی جاتی ہے مگر اس کے اثرات اور برکات کے قائل نہیں مثلاً بر ہو اور آریہ دعا کرتے ہیں۔ پراتھنائیں کرتے ہیں مگر ان کا یقین ہے کہ دُعا نہ کچھ بگاڑ سکتی ہے اور نہ کچھ بنا سکتی ہے۔ تو ان میں دعا کا وجود ہے۔ مگر رسم اور نام کے طور پر نہ کہ اصلیت اور حقیقت کے لحاظ سے۔ بہر حال یہ ثبوت ہے۔ اس بات کا کہ دُعا کا وجود تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے اور کوئی مذہب اس سے خالی نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ دعا کے برکات سے محروم ہیں اور اس کی وجہ انبیاء کے سلسلہ سے منقطع ہونے کی ہے، لیکن کسی نہ کسی رنگ میں دُعا ان میں پائی جاتی ہے۔ پرانی تاریخ کو دیکھو تو معلوم ہوگا کہ پہلے لوگ بھی دُعا کے قائل تھے اور آجکل کے لوگ گو اثرات کے قائل نہ ہوں۔ مگر عملاً دعا کرتے ضرور ہیں۔ اسلام کو دیگر مذاہب پر جس طرح اور باتوں میں خصوصیتیں حاصل ہیں ۔ اسی طرح دعا کے بارے میں بھی