خطبات محمود (جلد 6) — Page 193
۱۹۳ ہی خاص نہیں۔ فارسی والے فارسی میں نہیں کہ سکتے کہ انھوں نے اس غرض کو پورا کر دیا ہے چین کے لوگ چینی میں نہیں کہ سکتے۔ یورپ کے لوگوں میں سے انگریزی بولنے والے انگریزی میں نہیں کہہ سکتے۔ فرانسیسی بولنے والے فرانسیسی میں نہیں کہہ سکتے ۔ جرمن بولنے والے جرمن میں نہیں کر سکتے ۔ خود عرب جن کی یہ زبان ہے ۔ وہ بھی دوسرے لفظوں میں اس مطلب کو بیان نہیں کر سکتے۔ اور بیان کرتے ہوتے ڈرتے ہیں۔ لیکن ان لفظوں کو خدا کے سامنے ایک دفعہ نہیں دن اور رات میں کئی دفعہ دہراتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ الفاظ دہرانا کوئی چیز نہیں ہوتا۔ جب تک الفاظ کے اندر معنی نہ ہوں اور ان کی حقیقت کے مطابق عمل نہ ہو۔ پس جب خدا نے یہ کہا ہے کہ ہم نے انسان کو اس غرض سے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کرے۔ تو انسان اس کا جواب ان لفظوں میں دیتا ہے کہ میں تو تیری ہی عبادت کرتا ہوں جس طرح ایک انجینئر یا ایک مدرس - ایک کلرک اپنے آقا کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ نے جو کام میرے سپرد کیا تھا۔ میں اسکو پورا کر چکا ہوں۔ اسی طرح جب ایک شخص خدا تعالیٰ کے حضور جا کر کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہ آپ نے جو میرے سپرد اپنی عبادت کرنے کا کام کیا تھا میں اس کو کر آیا ہوں ۔ و سے مثلاً ظہر کے وقت کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہ صبح سے اس وقت تک جو کچھ میں نے کیا ہے وہ تیری ہی عبادت کی ہے اور تیرے خلاف منشا قدم نہیں اُٹھایا۔ اور پھر عصر کی نماز میں ظاہر کرتا ہے کہ ظہر اور عصر کے درمیانی وقفہ میں میں نے اس غرض کو پورا کیا ہے جس کے لیے تو نے مجھ کو پیدا کیا ہے پھر مغرب کی نماز کے وقت کہتا ہے عصر اور مغرب کے درمیان وہی غرض پوری کی ہے جس کے لیے مجھے پیدا کیا گیا ہے اور پھر عشاء کے وقت ظاہر کرتا ہے کہ خدا یا مغرب اور عشاء کے درمیان میں نے اس غرض کو پورا کیا ہے جس کے لیے تو نے مجھ کو پیدا کیا اور پھر صبح کی نماز میں کہتا ہے کہ خدا یا عشاء کے بعد سے میں نے اس غرض کو پورا کیا ہے جس کے لیے تو نے مجھے دنیا میں بھیجا تھا ۔ پس اسی طرح ساری عمر کے کاموں کا خدا تعالیٰ کے سامنے اعلان کرتا ہے یہ کتنا بڑا دعویٰ ہے مگر دوسرے لفظوں میں یہی بات ظاہر کرتے ہوئے موت پڑیگی ۔ حالانکہ انسان روزانہ اقرار و اظہار کرتا ہئے کہ اب تک تو میں اس غرض کو پورا کر چکا ہوں جس کے لیے مجھے پیدا کیا گیا اور آئندہ کے لیے مرد چاہتا ہوں۔ پھر دوسرے وقت میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خدایا اب تک تو اس غرض کو پورا کر چکا ہوں آئندہ کے لیے تیری مدد کی ضرورت ہے اب بتاؤ جولوگ کہتے ہیں کہ وہ اس غرض کو پورا کر چکے ہیں جو ان کے