خطبات محمود (جلد 6) — Page 19
19 عیسائیوں کو تو اس لیے ناکامی ہوتی کہ انھوں نے اسلام کو مٹانے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر مسلمان چونک اپنی شاست اعمال سے اس قابل نہ رہے تھے کہ آگے ترقی کرتے اس - کرتے اس لیے خدا تعالیٰ نے ان کو چھوڑ دیا کہ جاو تباہ وہر باد ہو۔ ۔ یا تو وہ آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ یا گھٹتے گھٹتے تباہ ہو گئے۔ اور اب کیسا اکٹھا زمانہ آیا کہ ایک تو وہ وقت تھا کہ مسلمان دنیا جہان کے لوگوں کو سبق دیتے پھرتے تھے۔ انھیں علوم سکھانے۔ ھانے تھے۔ تہذیب پھیلاتے تھے ، لیکن اب یہ حال ہے کہ ہر بات میں دو سیروں کے محتاج ہیں۔ دوسر ۔ دوسروں کو علم سکھانا تو الگ رہا ۔ خود ہی سب کچھ بھلا چکے ہیں ہر طرح کی ذلت اور نکبت ان پر چھائی ہوتی ہے ۔ عام لوگوں کو تو جانے دو۔ ان کی جو حکومتیں ہیں۔ ان کی حالت دیکھو۔ ایران کی حکومت جس کا ایک زمانہ میں دنیا میں ڈنکا بج چکا ہے اُس نے ایک دفعہ پندرہ لاکھ روپیہ ایک دوسری حکومت سے قرض مانگا ۔ تو اُسے کہا گیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ رو پیادا کر دیا اس با جائیگا ۔ حالانکہ ہندوستان کے شہروں میں کئی ایسے سوداگر ہیں کہ اگر وہ کروڑ روپیہ بھی شہروں: قرض لینا چاہیں تو آسانی سے لے سکتے ہیں، لیکن ایک لے سکتے ہیں، لیکن ایک حکومت کو پندرہ لاکھ روپیہ بھی فرض نہیں مل سکتا۔ یہ انجام ہے بد انتظامی کار ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ نے اتحاد اور اتفاق قائم کیا ہے اور پھر اس ترقی کی امید دلاتی ہے ۔ جو اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کو حاصل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ ہماری جماعت کے ذریعہ اسلام دنیا میں پھیلاتے، لیکن بجائے اس کے کہ حملہ آوروں کو تلوار سے روکا اور اپنے آگے جھکا یا جاتے۔ اب منشاء الہی یہ ہے کہ دلائل اور براہین کے ساتھ مقابلہ کیا جاتے اور اسی طرح اسلام ترقی کرے، مگر باوجود اس کے کہ اس زمانہ میں مقابلہ کا رنگ بدل گیا ہے اور تلوار کی بجائے براہین سے شوکت اسلام ظاہر ہوگی۔ وہ بات اسی طرح قائم ہے کہ تمام کامیابیاں اسی وقت حاصل ہو سکیں گی جبکہ ہم ایک انتظام کے ماتحت ہر ایک قربانی کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ ہر ایک قربانی خدا کے فضل سے کرنے کی ۔ ہر ۔ توفیق ملتی ہے۔ مگر خدا کا فضل جذب کرنے کے لیے بھی کچھ سامان ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا مہیا کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے اور وہ اتحاد واتفاق اور ایک انتظام کے ماتحت کام کرنا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ با کہ یہ بات بڑی حد تک ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے۔ مگر ہم اسکو کافی نہیں کہ سکتے ۔ ابھی اس کی بہت ضرورت ہے ۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیئے کہ جس باد جماعت میں اتفاق اور اتحاد نہیں ہوتا ۔ اس کی تمام کوششیں خدا کے دین کی ترقی کے لیے صرف