خطبات محمود (جلد 6) — Page 185
36 قرآن کریم پڑھنے کی ہدایت د فرموده ۲۸ ر مارچ (١٩١٩ تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں بہترین چیزوں میں سے اور نہایت ہی کار آمد اشیاء میں سے ایک ہدایت ہے مرا مستقیم کی ہدایت ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔کونسا کام ہے جو بغیر صحیح ذرائع کے ہوسکتا ہے۔کوئی بھی نہیں۔خواہ کام چھوٹے سے چھوٹا کیوں نہ ہو۔بغیر صحیح ذرائع کے انجام نہیں پاسکتا۔مثلاً روٹی کھانا بہ لحاظ اس کے کہ انسان اس کے کھانے کے لیے ہر روز مجبور ہے کس قدر چھوٹا کام ہے مگر خورد کرو جب تک انسان لقمہ منہ میں نہیں ڈالے گا کیسے کھاتے گا۔بات تو معمولی سی ہے مگر ہوگی ہی طریقی سے۔جو خدا نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے۔اسی طرح علم ہے علم کے سیکھنے کے لیے قواعد ہیں اگر ان قواعد کو استعمال نہ کیا جائے۔تو کوئی علم حاصل نہیں ہوسکتا۔بہت لوگ ہیں جو راتوں کو جاگتے اور پڑھتے ہیں مگر جس طریق سے یا جن کتابوں کے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے ان کو نہیں پڑھتے اس لیے علوم میں ترقی نہیں کر سکتے۔بعض لڑکے ہر وقت کتاب ہاتھ میں لیے نظر آتے ہیں مگر جنب امتحان ہوتا ہے تو فیل ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ خیال کرتے ہونگے کہ یہ تو بڑی محنت کرنے والے طالبعلم تھے۔پھر کیوں فیل ہوتے مگر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ کتاب کے ساتھ ناول بھی رکھتے ہیں۔جب پڑھنے بیٹھے تو کہا چلو دو ایک صفحہ اس کے بھی پڑھ لیں۔اسی طرح دو دو صفحہ میں ان کا سال تمام ہو جاتا ہے اور وہ امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں۔تو جب تک مجھے ذرائع نہ ہوں کامیابی نہیں ہو سکتی۔جو بڑے بڑے امور ہیں۔ان کے لیے اس سے بھی زیادہ صحیح ذرائع کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے ہیں جب تک صراط مستقیم کی ہدایت نہ ہو کچھ بھی نہیں حاصل ہو سکتا۔کجا یہ کہ تقویٰ و طہارت نصیب ہو یہ تو بڑی باتیں ہیں ان کیلئے تو اور زیادہ