خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 184

۱۸۴ بہت لوگ مایوسی کے سبب سے ہلاک ہو جاتے ہیں مگر تم وہ ہو جنہوں نے خدا کے فضل کے دامن کو کپڑا ہے۔اس لیے تمہارے لیے کوئی مایوسی نہیں ہے۔اگر تم پر خدانخواستہ کوئی مشکل آئے تو مت یقین کرد که دو نہیں تباہ کریگی کیونکہ تمہارا اس خُدا سے تعلق ہے جو واقعی تمام ہلاکتوں سے بچا سکتا ہے۔مایوسی تو ایسی بری چیز ہے کہ انسان کو کافر بنا دیتی ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے انه لا يا يأس من روح الله الا القوم العفرون ریوسف مہ) اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ پس مایوسی ایسی چیز ہے کہ ایمان گھٹتے گھٹتے کفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔اس لیے تم کسی وقت میں اپنے آپ کو مایوس نہ ہونے دو اور خدا پر توکل رکھو۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا یقین اور اس کے فنا کا خوف ہو اور پھر دعاؤں پر زور دو جب یہ بات انسان میں پیدا ہو جائے تو پھر کوئی ہلاکت اس پراثر نہیں کر سکتی۔یہ دعائیں ہیں جن کو استعمال کرو۔ان کے ساتھ وہ دُعائیں بھی ہیں۔جو حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں۔اتنا فرما کر حضور بیٹھ گئے۔جب دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تو فرمایا ) میں نے ایک دفعہ ایک رویا دیکھی۔شاید حضرت مسیح موعود اس وقت زندہ تھے ہیں اور کچھ اورآدمی کشتی میں سوار تھے اور ایک بہت بڑے سمندر میں چلے جارہے تھے کہ سخت طوفان آیا۔اور کشتی چلتے چلتے بھنور میں پڑگئی۔بہت کوشش کی اور چپو چلاتے کہ کسی طرح کشتی اس بھنور سے نکل جائے مگر یوں ہوں ہم کوشش کرتے تھے وہ اسی قدر زیادہ بھنور میں پڑتی جارہی تھی۔ہم اسی طرح زور لگاتے رہے اور ہماری جیرانی بڑھتی جارہی تھی کہ ایک آدمی نے کہا بیاں ایک پیر کی قبر ہے۔اگر اس سے دُعا کی جائے تو ہم اس ہلاکت سے بیچ سکتے ہیں۔میں نے کہا یہ تو نہیں ہو سکتا۔میرے ساتھیوں میں سے بعض کہنے لگے اگر اگر پیر سے دعا کی جائے تو کیا حرج ہے۔مگر میں میں کہتا رہا کہ یہ تو شرک ہے نہیں ڈوبنا منظور ہے مگری ترک ہرگز نہیں کریں گے چونکہ خطرہ دمیدم بڑھ رہا تھا اس لیے میرے رونگھتے روکتے میرے ساتھیوں میں سے ایک نے کاغذ پر کچھ لکھا اور سمندر میں ڈالنا چاہا۔میں نے کا نفذ روک کیا۔یاکسی اور طرح ضائع کر دیا او نیتی سے کہا کہ نی ترک ہے۔ہم ترک نہیں کریں گئے جب میں نے یہ کہا تو اسی وقت کشتی اچھل پڑی اور اس کردا ہے باہر نکل آئی۔مصیبت کے اوقات میں بعض انسان شرک میں پڑ جاتے ہیں۔مگر اس کی وجہ وہی نا امیدی ہوتی ہے۔بیشک مصائب آئیں مگر تو کل الٹی کا دامن نہ چھوڑنا چاہیئے۔پھر اگر تمای کشتی بھنور مں تھی ہوگی تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو باہر نکال دے گا ر ۵ - الفضل ها را پریل شاه )